نادیہ نے الزام لگایا تھا کہ شوہر کی رہائی کے لئے FIA کے ڈآئریکٹر نے ان سے پچاس لاکھ طلب کئے
نادیہ کے الزامات ادارے کی ساکھ کو نقصان پہچانے کی کوشش ،پیکا ایکٹ کے تحت کاروائی ہوگی، ایف آئی اے
کراچی :پاکستان کی معروف ماڈل و اداکارہ نادیہ حسین کے شوہرعاطف محمد خان کو بینک الفلاح سیکیورٹیز میں 540 ملین روپے کی خرد برد کے معاملہ پر ایف آئی اے نے گرفتار کر لیا ہے. ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی نے سابق سی ای او عاطف محمد خان کو 08 مارچ 2025 کو گرفتار کیا.ملزم عاطف محمد خان بطور سی ای او اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے مالیاتی دھوکہ دہی میں ملوث پایا گیا .
ملزم عاطف محمد خان کی گرفتاری کے بعد اس کی اہلیہ نادیہ حسین نے الزام لگایا کہ ایف آئی اے کے ایک ڈائریکٹر کی جانب سے انہیںکال کی گئی کہ شوہر کو بچانا ہے تو پچاس لاکھ کا بندوبست کرو.انہوںنے فورا اس کی تشہیر کر دی جس پر ایف آئی اے نے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہچانے کے الزام پران کے خلاف کاروائی کا فیصلہ کیاہے.
ایف آئی اے کے مطابق نادیہ حسین کو کو جعلساز کی جانب سے رشوت طلب کرنے کے لیے واٹس ایپ پر کال کی گئی.کال میں جعلساز نے ایف آئی اے کے سینئر افسر کی تصویر بطور ڈی پی استعمال کی.نادیہ حسین نے ایف آئی اے کراچی سے رابطہ کیا، جس پر انہیں جعلی کال سے آگاہ کیا گیا.ایف آئی اے نے نادیہ حسین کو سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر کراچی میں شکایت درج کروانے کی ہدایات کیں.
لیکن ایف آئی اے کے مطابق بدقسمتی سے نادیہ حسین نے شکایت درج کروانے کے بجائے سوشل میڈیا پر ایف آئی اے کے خلاف بے بنیاد الزامات لگائے اور سوشل میڈیا پر بے بنیاد الزامات لگانا قانون جرم ہے، جس پر پیکا ایکٹ کے تحت ان کے خلاف کاروائی ہو سکتی ہے.
ایف آئی اے ترجمان کے مطابق ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کراچی نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے نادیہ حسین کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔کسی بھی فرد کو بغیر ثبوت اور شواہد کے بے بنیاد پروپیگنڈہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
نادیہ حسین کے الزامات نہ صرف حقائق کے منافی ہیں بلکہ ایک منظم ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں، جو کہ ملکی قوانین کے تحت ایک سنگین جرم ہے۔شہریوں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک کال یا رابطے کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ ادارے سے رجوع کریں.




