اسرائیل اس تنازے میں ٹرمپ کی آس پر اتنا آگے آگیا ہے کہ واپسی ممکن نہیں اور ٹرمپ نے بھی عین وقت پر ہاتھ چھڑا لیا ہے
اہم سوال یہ ہے کہ جس طرح ایرانی میزائل صبح شام اسرائیل پر قہر بن کرٹوٹ رہے ہیں کیا دو ہفتے بعد اسرائیل کے پاس بچانے کے لئے کچھ بچے گا
اسرائیل کی دوستی میں ٹرمپ کے ووٹرز اور سپورٹرز حائل ،ٹرمپ سخت مشکل میں اسرائیل کو ناراض کر سکتے ہیں نہ اپنے ووٹڑز اور سپورٹرز کو
اسرائیل اپنے دعوے کے مطابق ایران کے روحانی پیشواء کی جان لے نہ لے لیکن اگر صورت حال یہی رہی تو ٹرمپ کی حکومت لے سکتا ہے
اسلام آباد(تجزیہ:محمدرضوان ملک) امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ انہیں ایران پر برائہ راست حملے کے حوالے سے فیصلہ کرنے کے لئے کچھ وقت درکار ہے اور کم ازکم اس حوالے سے کسی نتیجے پر پہنچنے کے لئے انہیں دو ہفتے درکار ہوں گے۔صدر ٹرمپ کے اس بیان نے اسرائیل کی امیدوں پر پانی پھیر تے ہوئے اس کی خطے میں بلاشرکت غیرے چودھری بننے کی آرزو ئوں کا خون کر دیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں انہوں نے اسرائیل کا بھانڈہ عین چورائے میں پھوڑ دیا ہے۔
اسرائیل کیلئے اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ دو ہفتے بعد اس حوالے سے ٹرمپ کا فیصلہ اسرائیل کی امنگوں کے مطابق ہوگا دوسری اہم بات یہ ہے کہ جس طرح ایرانی میزائل صبح شام اسرائیل پر قہر بن کرٹوٹ رہے ہیں کیا دو ہفتے بعد اسرائیل کے پاس ایران سے بچانے کے لئے کچھ بچے گا۔جس جنگ نے سات دن میں اسرائیل کی چیخیں نکال دی ہیں مزید چودہ دن بعد تو اس کی روح ہی پرواز کر جائے گی۔
امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایک ایڈونچر کیا اور اب دونوں ہی بری طرح پھنس گئے ہیں۔ نہ اسرائیل کو اندازہ تھا کہ ایران کی جانب سے اتنا بھرپور جواب آئے گا اور نہ امریکہ کو اندازہ تھا کہ اسے اس قدر شدید عالمی ردعمل کا سامنا ہوگا۔حالت ایسی ہے کہ اسرائیل اب کمبل کو چھوڑنا چاہتا ہے لیکن کمبل اسے نہیں چھوڑ رہا۔
نیتن یاہو جو کچھ دن قبل بڑے پرجوش تھے اب بجھے بجھے نظر آرہے ہیں ۔ان سے غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے ٹرمپ پر اعتبار کرنے سے پہلے ان کے یوٹرن کرجانے والی عادت کو ذہن میں نہیں رکھا۔ٹرمپ کا ماضی گواہ ہے کہ وہ یو ٹرن لینے میں دیر نہیں لگاتے حال ہی میں ایلون مسکن کے ساتھ ان کا روئیہ اس کی زندہ مثال ہے۔
ٹرمپ کے بڑے بڑے سپورٹر او ر ووٹرز بھی کسی صورت اس حق میں نہیں کہ ٹرمپ مزید کسی ایسے ایڈونچر میںشامل ہوں جس کا انجام امریکی ساکھ کی تباہی کے سوال کچھ نہیں ۔ ٹرمپ پر اس حوالے سے ان کے ووٹرز اور سپورٹرز کا اس لئے بھی شدید دبائو ہے کہ وہ دنیا کو پرامن بنانے کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے ،جنگیں ختم کرنا ان کا مشن تھا نہ کہ نئی جنگیں شروع کرنا ۔وہ بھی اس صورت میں کہ ماضی کے عراق اور افغانستان کے زخم ابھی تازہ ہیں۔اس ساری صورت حال میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ اسرائیل اپنے دعوے کے مطابق ایران کے روحانی پیشواء کی جان لے نہ لے لیکن اگر صورت حال یہی رہی تو ٹرمپ کی حکومت لے سکتا ہے ۔
ٹرمپ کافی سوچ بچار کے بعد اور اپنے رفقائے کار سے مشاورت کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ایران پر برائہ راست حملہ کرنے کی بجائے اسے دھمکایا، ڈرایا اور دبایا جائے لیکن تاحال تو ایران پر دبائو ڈالنے کی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔
اس حوالے سے پاکستانی آرمی چیف سے ٹرمپ کی خصوصی ملاقات بھی بے نتیجہ ثابت ہوئی ،ٹرمپ نے اس ملاقات کے بعد پاکستانی آرمی چیف کی تعریف کر کے جو احسان پاکستان پر چڑھایا تھا ، پاکستان نے ٹرمپ کو نوبل کے امن ایوارڈ کے لئے نامزد کر کے اس کا بدلہ چکا دیا ہے۔
اسرائیل کی اپنی حرکتوں کے باعث بھی اس کی عالمی ساکھ شدید خراب ہے اور ان حالات میں اسرائیل کا ساتھ دیناکسی بھی ملک کے لئے تباہ کن ہوسکتا ہے ۔دنیا جان گئی کہ اسرائیل امریکہ کا ایک شریر اور لاڈلا بچہ ہے ۔ جس نے پچھے ڈیڑھ سال میں پانچ ممالک پر بلاجواز حملے کئے جن میں شام ،اردن ، لبنان، یمن اور اب ایران شامل ہیں۔




