
قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی انتخابات ایکٹ ترمیمی بل اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔ سینیٹ میں منظور ہونے والے انتخابات ایکٹ میں ترمیمی بل 2017 میں احمدیوں کی حیثیت تبدیل نہیں ہوگی کے نکات شامل ہیں۔
ترمیمی بل میں انتخابات ایکٹ میں 48 الف شامل کی گئی ہے، جس کے مطابق ختم نبوت پرایمان نا رکھنےوالے کی حیثیت وہی ہوگی جوآئین میں درج ہے۔
ترمیمی بل کے مطابق ووٹرلسٹ میں درج کسی فرد پر سوال اٹھے تو اسے15 دن کے اندر طلب کیا جائیگا، متعلقہ فرد اقرارنامے پر دستخط کرےگا کہ وہ ختم نبوت پرایمان رکھتا ہے۔
ترمیمی بل میں کہا گیا ہے کہ جس پر اعتراض ہو اور وہ فرد اقرار نامے پر دستخط سے انکار کرے تو غیرمسلم تصور ہوگا۔ ایسے فرد کا نام ووٹرلسٹ سےنکال کر ضمنی فہرست میں بطور غیر مسلم شامل کیا جائیگا۔
ترمیمی بل کی رو سے متعلقہ ووٹرکے پیش نا ہونے کی صورت میں اس کے خلاف یکطرفہ فیصلہ جاری ہوگا




