
پاکستان میں جاسوسی و دہشتگردی کے جرم میں پھانسی کی سزا پانے والے انڈین نیوی کے افسر کلبھوشن جادھو اوران کے اہلِ خانہ کی ملاقات دفتر خارجہ میں ملاقات ختم ہوگئی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات پاکستانی وقت کے مطابق دو بج کر 18 منٹ پر شروع ہوئی تھی۔
ملاقات سے قبل دفتر خارجہ پہنچنے پرکلبھوشن کی اہلیہ اور والدہ نے گاڑی سے اتر کر میڈیا کے نمائندوں کو پرنام کیا جس کے بعد وہ دفتر خارجہ کے اندر چلی گئیں۔
کلبھوشن کی اہلیہ اور والدہ امارات ایئرلائنز کی پرواز سے پیر کی صبح اسلام آباد پہنچیں۔ ایئر پورٹ سے انھیں انڈین ہائی کمیشن لے جایا گیا جہاں سے وہ انڈین ڈپٹی ہائی کمشنر کے ہمراہ کلبھوشن جادھو سے ملاقات کے لیے دفتر خارجہ پہنچیں۔

پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کلبھوشن اور ان کے اہل خانہ کے درمیان ملاقات کا دورانیہ 30 منٹ ہو گا۔دفتر خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ انڈین ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ اور پاکستانی اہلکار اس ملاقات کا حصہ نہیں ہوں گے بلکہ وہ صرف نگرانی کریں گے۔
خیال رہے کہ انڈین شہری کلبھوشن جادھو کو پاکستان میں جاسوسی و دہشتگردی کے جرم میں فوجی عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی ہے اور انڈیا نے اس سزا کو عالمی عدالتِ انصاف میں چیلنج کیا ہوا ہے۔
پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے اتوار کی رات نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کلبھوشن کے اہل خانہ سے ملاقات کرنے کی اجازت معاملات کو مدنظر رکھ کر دی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ‘ہم نہیں چاہتے کہ اس وجہ سے ہمارے کیس میں کوئی کمزوری یا جھول آئے۔ ہمیں یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ ایسا کیا جائے۔’

جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا کلبھوشن کے گھر والوں کی جانب سے رحم کی اپیل پر غور کیا جا سکتا ہے یا پھانسی کی سزا عمر قید میں بدل سکتی ہے؟

اس سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے پاکستان میں کی جانے والی کارروائیوں اور انسانی جانوں کے ضیاع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ابھی وہ اس بارے میں کوئی قیاس آرائی نہیں کر سکتے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ‘یہ مکمل طورپر ایک کوشش ہے جو انسانی بنیادوں پر کی گئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں اگر انڈیا ہوتا تو کبھی ایسا نہ کرتا۔’
خیال رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا تھا کہ کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ ہوائی جہاز کے ذریعے پاکستان پہنچیں گی اور انھیں اسلام آباد کا ویزہ جاری کیا گیا ہے۔ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ابھی تک کلبھوشن کو پھانسی دینے کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

کلبھوشن نے اپنے اعترافی بیان میں تسلیم کیا کہ انھیں ‘را’ نے پاکستان میں جاسوسی اور سبوتاژ کی کارروائیاں کرنے اور اسے عدم استحکام سے دوچار کرنے کی منصوبہ بندی، رابطہ کاری اور انتظام کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی۔
اس کے علاوہ شورش سے متاثرہ بلوچستان اور کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی امن عامہ کی صورتحال بہتر بنانے کی کوششوں کو متاثر کرنا بھی ان کی ذمہ داری تھی۔
کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد انڈیا کی وزراتِ خارجہ نے ایک بیان میں کلبھوشن یادو کے اعترافی بیان کی ویڈیو کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچستان میں گرفتار کیے گئے شخص کا بھارت کی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ ویڈیو جھوٹ پر مبنی ہے تاہم بعد میں انڈین حکام نے تسلیم کیا تھا کہ کلبھوشن انڈین بحریہ کے سابق افسر ہیں۔