شہروں کے عالمی دن2020 کی مناسبت سے کامسیٹس کے زیراہتمام ویب نار

 

لوگوں کی شہروں کی طرف نقل مکانی نے عالمی سطح پر عصر حاضر کے انتظامات اورطریقہ کار پرنامناسب دباؤ ڈالا ہے

آبادی میں اضافے یا کمی کی رفتار اورآبادی کی نقل مکانی کی اصل وجوہات کوسامنے رکھ کر لائحہ عمل مرتب کرنا ہوگا ،جنید زیدی

اسلام آباد ( نیوزرپورٹر)مختلف علوم وفنون کے عالمی ماہرین نے دنیا کو متنبہ کیا ہے کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی اور لوگوں کی شہروں کی طرف نقل مکانی نے عالمی سطح پر عصر حاضر کے انتظامات اورطریقہ کار پرنامناسب دباؤ ڈالا ہے،جس سے پوری دنیا کی معاشرتی اور معاشی صورتحال اور لوگوں کے معیار زندگی پر سنگین اثرات مرتب ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ کے ساتویں ورلڈ سٹیز ڈے (شہروں کا عالمی دن)2020 کی مناسبت سے منعقدہ کامسیٹس کے زیراہتمام ویب نار، جس کا موضوع ”جنوبی جنوب خطے میں شہری آبادی میں تیزی سے اضافہ اور درپیش چیلینجز”تھا۔اس میں پاکستان سمیت چین،ایران، قازقستان،سوڈان،تنزانیہ اوریوگنڈا کے ماہرین نے اس بات پرزور دیا کہ حکمرانی، انسانی بہبوداور ماحولیاتی سلامتی کا انحصار اس بات پرہرگز نہیں ہوتاکہ آبادی کا حجم کتنا ہے، بلکہ انسانی آبادی پر بہت سے اثرات اس لیے بھی مرتب ہوتے ہیں کہ آبادی کے اس حجم کو کتنی دانائی اور ہوشیاری سے منقسم کیا گیا ہے۔اس ویب نارکے لیے کامسیٹس کے مرکز برائے آب وہوا اور استحکام (سی سی سی ایس) اورکامسیٹس کے سینٹر آف ایکسی لینس (صنعتی تحقیق اور ترقیاتی تنظیم) تنزانیہ نے تعاون فراہم کیا تھا۔اس موقع پر کامسیٹس کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر ایس ایم جنید زیدی نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں کہا کہ اقوام متحدہ کے ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے انسانی آبادی میں اضافے یا کمی کی رفتار اورآبادی کی نقل مکانی کی اصل وجوہات کوسامنے رکھ کر جدید تقاضوں کے مطابق لائحہ عمل مرتب کرنا ہوگا اوراس کے لیے انسانی آبادی سے متعلق تمام علوم وفنون کے درمیان باضابطہ رابطے کے بغیرآبادی کے استحکام اور فلاح وبہبود کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔اس موقع پر کامسیٹس کی نمائندگی کرتے ہوئے سی سی سی ایس کے سربراہ سفیر شاہد کمال نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ایک بہت بڑا چیلنج ہے،جس نے خوراک، پانی اور توانائی کی حفاظت کے لیے سنگین خطرات پیداکر دیے ہیں اور یہ عمل منفی نتائج سامنے لاسکتا ہے۔ اس ویب نار کے پینل میں چین کے تیانجن انسٹی ٹیوٹ آف انڈسٹریل بایوٹیکنالوجی (ٹی آئی بی) کے نمائندوں کے ہمراہ یونیورسٹی آف تہران (ایران) کے نمائندے بھی شریک تھے۔ علاوہ ازیں قازقستان سے الفارابی قازق نیشنل یونیورسٹی (کاز این یو)، پاکستان سے یونیورسٹی آف پشاور، سوڈان سیانٹرنیشنل سینٹر برائے ریسرچ اینڈ کنسلٹنسی (آئی آر سی سی)، تنزانیہ سے تنزانیہ انڈسٹریل ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن اوریوگنڈاکی مبرارا یونیورسٹی آف سائنس اینڈٹیکنالوجی کے ماہرین شامل ہوئے۔ ویب نار کے دوران ہونے والی گفتگو اور تبادلہ خیال سے شہری اختیارات سے متعلق ماہرین نے متعدد اہم امور کااحاطہ کیا، جن میں زمین کے استعمال کی منصوبہ بندی سب سے اہم تھی۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبے کی وجہ سے زہریلی گیسز کے اخراج پر قابو پانا، قابل کاشت زمین میں ہونے والی کمی کی وجوہات تلاش کرنااور اس کے تدارک کی حکمت عملی اور صنعتی فضلہ کے لیے انتظامات کے علاوہ اس کی تلفی اور فضلے کو توانائی میں بدلنے کے عمل تک رسائی کو ضائع ہونے بچانااور توانائی سے متعلق درپیش مسائل سے نمٹنے کے لیے جامع طریقہ کار کی تشکیل کو نہایت اہم قرار دیا گیا۔ماہرین نے اس پروگرام میں قدرتی وسائل اور ماحولیات سے متعلق اقوام عالم کے مفادات اور تحفظ کے لیے نئے شہروں کی تعمیرو ترقی کے لیے مضبوط قانون سازی اورپالیسی اقدامات پر زور دیا اور اس کے ساتھ ساتھ خوش حال اور صحت مند شہری آبادی کے لیے آب و ہوا میں ہونے والی تبدیلیوں کے منفی اثرات میں کمی کے نقطہ نظر کو اولین ترجیحات میں شامل کیا۔کیونکہ شہروں میں نقل و حمل اور صنعتوں کی وجہ سے ہوا میںآلودگی نے انسانی صحت کو شدید خطرات سے دوچار کردیا ہے۔ویب نارکے اختتام پر پروگرام کے ماڈریٹرڈاکٹر لیوگو ولسن نے (ٹی آر ڈی
ڈی او)اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے ”کلین اینڈ گرین”کی سوچ اور انداز کو اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔