مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی کیمپ پر مجاہدین کا حملہ، 4 فوجی جہنم واصل

بھارتی مقبوضہ کشمیر میں نیم فوجی دستے سی آر پی ایف کے کیمپ پر شدت پسندوں کے حملے میں چار فوجی ہلاک  جبکہ دو حملہ آوروں کی ہلاکت کی اطلاعات بھی ہیں۔

جموں کشمیر پولیس کے ٹوئٹر ہینڈل پر بتایا گیا ہے کہ ابھی تصادم جاری ہیں جبکہ انڈین میڈیا کے مطابق اس حملے میں تین فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

سینٹرل ریزور پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے ایک اہلکار نے  بتایا کہ یہ حملہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب تقریبا رات دو بجے کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق حملے میں ابھی تک سی آر پی ایف کے تین اہلکار زخمی ہوئے ہیں جبکہ ابھی بھی چند شدت پسند کیمپ میں موجود ہیں۔

اطلاعات کے مطابق تین فوجیوں کی موت گولی لگنے سے ہوئی ہے جبکہ ایک کی موت دل کا دورہ پڑنے سے۔

انڈین اخبار ہندوستان ٹائمز نے اپنی ویب سائٹ پر چار فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے اور دو فوجیوں کے زخمی بھی ہوئے ہیں۔

سری نگر میں بی بی سی کے نمائندے ریاض مسرور نے بتایا کہ کالعدم تنظیم جیش محمد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

حملہ سرینگر سے 32 کلومیٹر کے فاصلے پر لیتھ پورا میں قائم سی آر پی ایف کی 185 ویں بٹالین کے کیمپ پر کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق شدت پسندوں نے کیمپ میں داخل ہونے سے قبل ہینڈ گرینیڈ پھینکے اور پھر فائرنگ شروع کر دی۔

مقامی پولیس اہلکار نے بتایا کہ دو سے تین حملہ آور ابھی بھی کیمپ میں موجود ہیں۔

جموں کشمیر پولیس نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر بتایا ہے کہ فائرنگ ابھی جاری ہے اور مزید تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں۔

دوسری جانب سی آر پی ایف کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ‘اگرچے حملہ آور ابھی بھی کیمپ میں موجود ہیں لیکن فائرنگ کا سلسلہ رک گیا ہے۔’ ان کا کہنا ہے کہ ‘حلمہ آور کیمپ کے اندر ہی کہیں چھپے ہوئے ہیں۔’

رواں سال اگست میں خودکش حملہ آوروں نے پلواما میں پولیس لائنز کو نشانہ بنایا تھا جس میں انڈین سکیورٹی فورسز کے آٹھ فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ جوابی کارروائی میں تین شدت پسند بھی مارے گئے تھے۔