عالمی طاقتیں پاکستان کو داخلی مسائل میں الجھا کر ایٹمی طاقت سے محروم کرنا چاہتی ہیں,جنرل ناصر جنجوعہ

اسلام آباد…اسلام کے نام پر بننے والے اس ملک میں سب سے زیادہ اہمیت دین کو ہونی چاہئے ۔ قومی علماءمشائخ کونسل کو صوبائی اور ضلعی سطح پر مستقل ادارہ بنایا جائے گا۔ یہ بات وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے کونسل کے پانچویں اجلاس کی صدارت کے موقع پر کہی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ایک ایسا ادارہ بنانا چاہتے ہیں جو آنے والے دور تک فعال رہے اور رہنمائی فراہم کرتا رہے۔ قومی اسمبلی سے پانچویں جماعت تک ناظرہ اور بارہویں جماعت تک معانی کے ساتھ قرآن پاک کی تعلیم کو لازمی قرار دلوانا ہماری کامیابی ہے۔ علماءکرام کی مشاورت سے مدارس کے نظام میں بھی کافی بہتری لائی گئی ہے ۔ مزید پیش رفت کیلئے علماءکرام کا اتفاق اشد ضروری ہے۔ مدارس میں پڑھنے والے بچے مستقبل میں فوج ، پولیس اور دوسرے ملازمتیں حاصل کر سکیں گے۔ کچھ مدارس کو بتدریج کالج اور یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے گا۔

اس سے قبل قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر خان جنجوعہ نے پاکستان کو درپیش ملکی اور بیرونی خدشات اور چیلنجز کے حوالے سے کونسل کے ارکان کو تفصیلی بریفنگ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض عالمی طاقتیں پاکستان کو داخلی مسائل میں الجھا کر ایٹمی طاقت سے محروم کرنا چاہتی ہیں اور سی پیک منصوبے کو ناکام بنا کر پاکستانی معیشت پر کاری ضرب لگانا چاہتی ہیں۔ یہی طاقتیں افغانستان میں امن کے قیام کی مخالف ہیں اور پڑوسی ملک بھارت کے ساتھ بڑے بڑے دفاعی اور معاشی معاہدوں کی نوازشات کر رہی ہیں۔ ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کر کے اپنی سمت اور دیگر ترجیحات کا تعین جلد از جلد کرنا ہو گا۔ پاکستان کا مستقبل انتہائی شاندار ہے مگر ہمیں عالمی اور خطہ کی بدلتی صورتحال پر ہر لمحہ نظر رکھنی ہو گی۔ ہمیں ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے ساتھ ساتھ اندرونی چیلنجز کا مقابلہ بھی کرنا ہے۔ ہمارا ایک بڑا مسئلہ دہشت گردی بھی ہے۔ مشیر قومی سلامتی نے مدارس کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے مجوزہ خاکہ شرکاءکے سامنے پیش کیا ۔ بریفنگ کے بعد سوال و جواب کے سیشن میں علماءکرام نے قومی و نظریاتی سلامتی اور یکجہتی کے سلسلے میں وزراءمذہبی امور اور قومی سلامتی کے مشیر کی کوششوں کو سراہا اور اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات کی ایک بنیادی وجہ اسلامی اقدار سے دوری اور نظریہ پاکستان سے انحراف بھی ہے۔

اجلاس کے افتتاحی کلمات میں وزیر مملکت پیر محمد امین الحسنات شاہ نے ملکی و عالمی سلگتے مسائل کا حل علماءکی مشاورت سے تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور بتایا کہ کونسل کی گذشتہ سفارشات پر عمل درآمد کیلئے متعلقہ محکموں سے رابطے جاری ہیں۔ اجلاس کے آخر میں روہنگیا مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم کی مذمتی قرار دار کی متفقہ منظور ی دی گئی۔ قرار دار میں اس مسئلہ کو اقوام متحدہ، رابطہ عالم اسلامی اور دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ سفارتی سطح پر اٹھانے اور مجرموں کو قرار واقعی سزا دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ متاثرین کی جلد آباد کاری اور مستقبل میں ایسے واقعات کے اعادہ پر میانمر سے سفارتی اور تجارتی تعلقات کو منقطع کرنے کی اپیل کی گئی۔ بعد ازاں محرم الحرام میں امن و امان اور بین المسالک ہم آہنگی کیلئے تمام مسالک کے علماءکرام اور مشائخ عظام کی طرف سے ایک جامع ضابطہ اخلاق کی منظوری دی گئی جس کی رو سے (۱)تمام مکاتب فکراپنے درمیان محبت ، رواداری اور افہام و تفہیم کی فضا قائم کرنےکی خلوص دل سے کوشش کریں گے۔ (۲) دوسرے مسالک کے اکابرین کا احترام کریں گے۔(۳) علماءکرام ،خطباءاور مصنفین اپنی تقریروں اور تحریروں میں توازن و اعتدال پیدا کریں گے اور ایسے اشتعالانگیر بیانات اور تحریروں سے پرہیز کریں گے جن سے دوسروں کی دل آزاری ہو سکتی ہو۔(۴) مسلکی تنازعات کو باہم مشاورت ، افہام و تفہیم اور سنجیدہ مکالمے کے اصولوں کی روشنی میں طے کریں گے۔ عوامی پلیٹ فارم سے اپنے مخالفین کے خلاف طعن و تشنیع سے مکمل اجتناب کیا جائےگا۔(۵)امہات المومنین ، صحابہ کرام ، اہل بیت اطہار اور اولیائے کرام ، تابعین و تبع تابعین اور تمام مسلمانوں کے ادب و احترم کو ملحوظ خاطر رکھا جائےگا اور ان میں سے کسی کو بھی تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ (۶)قومی اور ملکی حالات اور معاملات میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام متفق و متحد رہیں گے۔