امریکہ نے شام میں فضائی حملے کیے تو جنگ ہو گی، روسی سفیر

روس نے تبہیہ کی ہے کہ اگر امریکہ نے شام میں مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں فضائی حملے کیے تو دونوں ممالک کے درمیان جنگ ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ میں روس کے سفیر وسیلی نیبنزیا نے جمعرات کو کہا کہ ’اس وقت فوری ترجیح جنگ کا خطرہ ٹالنا ہے۔‘

انھوں نے واشنگٹن پر عالمی امن کو خطرے میں ڈالنے کا الزام لگایا اور کہا کہ اس وقت صورتحال انتہائی خطرناک ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ مغربی ممالک شام میں کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں اور روس ایسی کارروائی کی مخالفت کرنا ہے۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے بند کمرہ اجلاس میں شرکت کے بعد وسیلی نیبنزیا نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ہم کسی بھی امکان کو رد نہیں کر سکتے۔

وائٹ ہاوس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں سے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس ’کیمیائی حملے‘ کے ردِعمل پر غور کر رہے ہیں۔

ادھر برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے کے دفتر ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کابینہ کے وزیروں نے ’کیمیائی ہتھیاروں کے مزید استعمال کو روکنے کے لیے شام میں کارروائی کرنے کی ضرورت‘ پر اتفاق کیا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے جمعرات کی رات گئے امریکی صدر سے بات کی اور اس بات سے اتفاق کیا ہے شام کے معاملے پر مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اس سے قبل فرانس کے صدر ایمینوئل میخواں نے جمعرات کو کہا کہ فرانس کے پاس شواہد ہیں کہ شام کے شہر دوما میں گذشتہ ہفتے کیمیائی ہتھیار یا کم از کم کلورین کا استعمال کیا گیا ہے اور یہ ہتھیار بشار الاسد کی حکومت نے استعمال کیے ہیں۔

مقامی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے فرانسیسی صدر نے کہا کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے جواب میں ہونے والی فوجی کارروائی میں ترجیحات پر توجہ دیں گے اور خطے کے استحکام کو برقرار رکھیں گے۔

فرانس کبھی بھی صورت حال کو مزید کشیدہ ہونے نہیں دے گا یا کچھ ایسا ہونے نہیں دیں گے جس سے خطے کا استحکام خطرے میں پڑے۔ لیکن ہم اس طرح کی حکومتوں کو ان کی من مانی نہیں کرنے دیں گے جن میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی شامل ہے۔’

دوسری جانب جرمنی کی چانسلر انگیلا مرکل کا کہنا ہے کہ جرمنی شامی حکومت کے خلاف فوجی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا تاہم اس کی حمایت کرے گا۔

انھوں نے کہا ‘میں یہ بتانا ضروری سمجھتی ہوں کہ ابھی تک شام پر فوجی کارروائی کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے لیکن اگر فیصلہ ہو جاتا ہے تو جرمنی اس کا حصہ نہیں ہو گا۔’

انھوں نے مزید کہا کہ جرمنی اس کارروائی کی حمایت کرے گا جو یہ واضح کرے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال قابل قبول نہیں ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوما میں مبینہ کیمیائی حملے کے بعد اتوار کو کہا تھا کہ دوما میں ہونے والی مظالم کی ذمہ داری روس کے صدر ولادیمر پوتن پر عائد ہوتی ہے کیونکہ وہ شامی حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو ٹویٹ میں کہا ‘روس تیار رہو میزائل آ رہے ہیں۔ بہترین، نئے اور سمارٹ۔ تمھیں گیس سے لوگوں کو ہلاک کرنے والے جانور کا ساتھ نہیں دینا چاہیے۔’

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ شام کے شہر دوما پر مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں ممکنہ فوجی آپریشن ‘بہت جلد یا کافی عرصے بعد’ کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے ٹویٹ میں لکھا ‘کبھی نہیں کہا کہ شام پر حملہ کب ہو گا۔’

انھوں نے اسی ٹویٹ میں مزید کہا ہے کہ ‘میری انتظامیہ میں امریکہ نے خطے سے دولت اسلامیہ کے خاتمے کے حوالے سے عمدہ کام کیا ہے۔ شکریہ امریکہ کہاں ہے’

امریکہ کا کہنا ہے کہ شام میں مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں اس کے پاس ‘تمام آپشنز موجود ہیں’ جبکہ مغربی رہنما فوجی کارروائی کے بارے میں تاحال غور کر رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز نے صحافیوں کو بتایا کہ فوجی کارروائی کے بارے میں تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اس واقعے کا ذمہ دار روس اور شام کو ٹھہراتا ہے۔

روس نے شام میں جاری کشیدگی میں تمام فریقین سے کہا ہے کہ ایسا قدم نہ اٹھایا جائے جس سے شام میں کشیدگی میں اضافہ ہو اور ملک میں امن لانے کی کوششوں پر تباہ کن اثرات پڑیں۔

یہ بات کریملن کے ترجمان نے ایسے وقت میں دیے ہیں جب واشنگٹن میں سکیورٹی چیفس صدر ٹرمپ کو شام میں مبینہ کیمیائی ہتھیار کے استعمال کے جواب میں تجاویز دیں گے۔

دریں اثنا شام کے صدر بشار الاسد نے کہا ہے کہ دوما میں مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں فوجی کارروائی ‘جھوٹ’ پر مبنی ہے۔

اس سے قبل امریکہ کا کہنا تھا کہ شام میں مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں اس کے پاس ‘تمام آپشنز موجود ہیں’جبکہ مغربی رہنما فوجی کارروائی کے بارے میں تاحال غور کر رہے ہیں۔

امدادی کارکنوں اور طبی عملے کا کہنا ہے کہ سنیچر کو شام میں باغیوں کے زیرانتظام قصبے دوما میں درجنوں افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔

تاہم روس کی حمایت یافتہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کیمیائی حملے کی تردید کرتی ہے۔

سارہ سینڈرز نے بدھ کو نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکی صدر کے پاس کئی راستے موجود ہیں اور ابھی تک ‘ہم نے مخصوص کارروائیوں کے بارے میں کوئی منصوبہ ترتیب نہیں دیا۔’

اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ روس شام میں امریکی میزائلوں کے حملے کے لیے تیار رہے