اسلام آباد : مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمد کاشف چوہدری نے کہا ملک میں جاری لاک ڈاو ¿ن کو رمضان کے آخری ہفتے میں مکمل ختم کر کے دکانوں اورشاپنگ مالز کو روزانہ24 گھنٹے کھولنے کی اجازت دی جائے جس سے نہ صرف مختلف کمرشل مارکیٹوں میں محدود اوقات کی وجہ سے لگنے والی بے پناہ بھیڑ کے مسئلے سے نمٹنے میں مدد ملے گی بلکہ چھوٹے تاجر اور دکاندار بھی23 مارچ سے جاری طویل المیعاد لاک ڈاو ¿ن کے باعث ہونے والے نقصانات کا کسی حد تک ازالہ ہو سکے گا ،انھوں نے کہ حکومت کی اعلان کردہ عیدالفطر کی چھٹیوں سے لے کر 31مئی تک مکمل طور پرلاک ڈاو ¿ن کو دوبارہ نافذ کردیا جائے، ہم اپنے کاروبار کو ہمیشہ کے لئے بند نہیں کرسکتے لہذا حکومت اور تاجر برادری کو مل کر ایسے طریقے اور ذرائع وضع کرنے ہوں گے جن کے ذریعے ہم اس وائرس کی موجودگی میں بحفاظت معمولات زندگی کو بحال کرسکیں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے اسلام آباد کے جی نائن مر کز کے دورے کے موقع پر تاجروں سے گفتگو کر تے ہو ئے کیا ۔
محمد کاشف چوہدری نے کہا ایس او پیز صرف رمضان کے شاپنگ سیزن کے لئے نہیں بلکہ انہیں ہمیں اپنی زندگی اور روزمرہ کی کاروباری سرگرمیوں کا حصہ بنانا ہوگا، لاک ڈاو ¿ن میں پیر سے ہفتے تک چھ روز کے لئے مکمل نرمی کرنی ہی ہوگی تاکہ شہری بنا کسی مشکل، جلدبازی اور پریشانی کے کمرشل مارکیٹوں میں جاسکیں جبکہ دکاندار بھی بھیڑ سے پاک ماحول میں اپنے گاہکوں کو ڈیل کریں جس کی اشد ضرورت ہے تاکہ لوگوں کے درمیان سماجی فاصلے کو یقینی بنایا جاسکے جو کرونا وائرس کے مزید پھیلاو ¿ کو موئثر طریقے سے روکنے کے لئے انتہائی اہم حفادظتی اقدام ہے۔محمد کاشف چوہدری نے کہا ملک کی تاجر وصنعتکار برادری کا حقیقی نمائندہ ہونے کی حیثیت سے ہمیں چھوٹے تاجروں، دکانداروں اور صنعتکاروں کو لاک ڈاو ¿ن کی وجہ سے ہونے والے نقصانات پر کافی تشویش ہے تاہم ساتھ ہی ساتھ عوام کی زندگیوں کی بھی ا تنی ہی پرواہ ہے کیونکہ ہم کسی بھی قیمت پر معصوم عوام کی زندگیوں کے عوض کاروبار چلانے کے متحمل نہیں ہوسکتے ،شہریوں کو بھی احتیاط سے کام لیتے ہوئے ضروری حفاظتی تدابیر پر عمل کرنا ہوگا تاکہ ہم سب مل کر کرونا وائرس کی جان لیوا وبا کو شکست دے سکیں۔



