
اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) جمعہ کے روز ایون فیلڈریفرنس میں شریف خاندان کے متعلق فیصلہ کے لئے اسلام آباد میں احتساب عدالت کے اطراف سیکورٹی سخت کر دی گئی ، فیصلہ خلاف آنے کی صورت میں ن لیگ کی طرف سے ممکنہ رد عمل کے پیش نظرجوڈیشل کمپلیکس کیاطراف دفعہ 144نافذ کر دی گئی ہے۔ 500رینجرزاور 1500 پولیس اہلکارسیکیورٹی پرتعینات ہوں گے،احتساب عدالت کی سیکیورٹی میں غیرمعمولی تبدیلی، جج محمدبشیر کی سیکیورٹی میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف ، ان کی صاحبزادی مریم نواز، اور داماد کیپٹن صفدر کے خلاف احتساب عدالت نے اپنی سماعت مکمل کر لی تھی جس کے بعد اج جمعہ کے روز اس کا فیصلہ سنایا جائے گا جس کے باعث جوڈیشل کمپلیکس کیاطراف دفعہ 144نافذ کر دی گئی ہے۔جوڈیشل کمپلیکس کے باہر5سے زائدافرادکے اکٹھے ہونے پرپابندی ہے، 500رینجرزاور 1500 پولیس اہلکارسیکیورٹی پرتعینات ہوں گے،رینجرزکی تعیناتی کیلئے درخواست دے دی گئی ہے۔ احتساب عدالت کے جج محمدبشیر کی سیکیورٹی میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ رینجرزاہلکارجوڈیشل کمپلیکس کے داخلی راستے پر تعینات ہوں گے غیرمتعلقہ افرادکا احتساب عدالت میں داخلہ بند ہوگا۔یہ اقدامات ایون فیلڈریفرنس میں شریف خاندان کیخلاف متوقع فیصلہ کے پیش نظر کیے گئے ہیں۔ جوڈیشل کمپلیکس کیاطراف دفعہ 144نافذ کر دی گئی ہے۔ رات گئے پولیس اور رینجرز اہلکاروں نے احتسانؤب عدالت کے اطراف اپنی پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔




