
اسلام آباد ( مانیٹرنگ رپورٹ)پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اورسابق چیئرمین سینٹ میاں رضاربانی کا کہنا ہے کہ 25 جولائی کے الیکشن کے بعد خوف ہیکہ اٹھارہویں ترمیم واپس نہ ہوجائے جبکہ ہمارے آئینی ادارے آپس میں لڑ رہے ہیں اورپارلیمنٹ کو کمزور کردیا گیا ہے۔سابق چیئرمین سینیٹ ان خیالات کا اظہار نجی یونیورسٹی میں ایک سیمینار سے اپنے خطاب میں کیااور کہا کہ الیکشن سے پہلے مقتدر قوتیں اب تک جو کرچکیں اب وہ آخری 20دنوں میں انتخابات شفاف ہونے دیں کیونکہ انجینئرڈ الیکشن نے نہ پہلے پاکستان کے مسائل حل کئے نہ آئندہ کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ خوف ہے کہ 25 جولائی کے بعد اٹھارہویں ترمیم واپس نہ ہوجائے، اس ترمیم کے ذریعے صوبوں کوملے تھوڑے بہت حقوق بھی واپس اسلام آباد کودینے کی بات ہورہی ہے۔رضا ربانی نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم سے انتہا پسند قوم پرست تنظیموں کوآئینی حدود میں رہتے ہوئے حقوق حاصل کرنے کا احساس ہواجبکہ آئینی ادارے آپس میں لڑ رہے ہیں، پارلیمنٹ کو کمزور کردیا گیاتاہم سیاسی کارکن کی حیثیت سے تسلیم کرتا ہوں اس میں ہماری بھی غلطی ہے۔سابق چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ آئین میں کہاں لکھا ہے عدلیہ، پارلیمنٹ اور انتظامیہ کا کام انجام دے، 25 جولائی کے بعد سیاسی استحکام نظر نہیں آرہا، جب قومی اسمبلی میں چوں چوں کا مربہ بٹھایا جائے گا تو اس سے کیا امید رکھیں گے۔انہوں نے بتایا کہ اسٹیبلشمنٹ نے سیاسی پارٹیوں کو استعمال کرکے تشو پیپر کی طرح پھینک دیا۔ملک کی اشرافیہ اور عوام کی سوچ مختلف ہیجبکہ ملک کے وسائل پر قابض اشرافیہ کے ذہن آزادی سے پہلے والوں کی سوچ ہے۔
اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کوملے حقوق بھی واپس اسلام آباد کودینے کی بات ہورہی ہے۔ رضا ربانی


