خیبر پختونخوا میں نئے ٹول پلازے قائم کیے جائیں، وفاقی وزیر برائے مواصلات کی ہدایت

اسلام آباد(نیوزرپورٹر)۔۔وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان نے ہدایت کی ہے کہ خیبر پختونخوا کے صوبے میں موٹرویز اور ہائی ویز پر محصولات میں اضافے کے لیے نئے ٹول پلازے قائم کیے جائیں۔وہ وزارتِ مواصلات میں ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے جس میں قومی شاہراہ اتھارٹی این ایچ اے کے متعلقہ ممبران نے وفاقی وزیر کو دورانیہ جاتی کاموں، معمول کی دیکھ بھال اور مختلف منصوبوں کے مالی واجبات کے بارے میں بریفنگ دی۔ اجلاس میں مختلف منصوبوں کے زیرِ التواء واجبات کی منظوری کے لیے بھی گزارشات پیش کی گئیں۔
وفاقی وزیرعبدالعلیم خان نے سیکرٹری مواصلات کو ہدایت کی کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیا جائے اور وزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا سے باضابطہ طور پر رابطہ کر کے صوبے میں نئے ٹول پلازوں کے قیام کے بارے میں بات چیت کی جائے۔وفاقی وزیرعبدالعلیم خان نے کہا کہ محصولات کی وصولی ترقیاتی منصوبوں اور مرمتی سرگرمیوں کے تسلسل کے لیے نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان ٹول پلازوں سے حاصل ہونے والی آمدنی خیبر پختونخوا کے شاہراتی نیٹ ورک پر دوبارہ خرچ کی جائے گی تاکہ صوبہ اپنی حدود میں حاصل ہونے والے فنڈز سے براہِ راست مستفید ہو سکے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ملک بھر سے سیاح بڑی تعداد میں آتے ہیں۔
وفاقی وزیرمواصلات عبدالعلیم خان نے مزید ہدایت کی کہ سیکرٹری مواصلات ذاتی طور پر ان منصوبوں کا دورہ کریں جن کے مالی واجبات زیرِ التواء ہیں تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ منظوری دی جانی چاہیے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن منصوبوں کے واجبات ایک کروڑ روپے 10 ملین روپے سے زیادہ ہیں، ان کی انسپیکشن سیکرٹری مواصلات اور ان کی ٹیم کے ذریعے کی جائے گی۔ ادائیگیاں صرف مکمل انسپیکشن کے بعد ہی کی جائیں گی۔کچھ ٹول پلازوں پر توڑ پھوڑ کے واقعات کے حوالے سے،وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ کسی بھی صورت میں سرکاری املاک یا ٹول پلازوں کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے این ایچ اے کے حکام کو ہدایت کی کہ ایسے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کی جائے، بشمول ایف آئی آر درج کرائی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔وفاقی وزیرعبدالعلیم خان نے مزید کہا کہ وہ معمول کی مرمتی منصوبوں کی اجازت نہیں دیں گے کیونکہ اس نوعیت کے منصوبے بدعنوانی کو فروغ دیتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام سطحوں پر افسران کو بدعنوانی کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ قومی خزانے کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ایک افسر کا دیانتدار ہونا کافی نہیں، اگر وہ اپنے ماتحتوں کو بدعنوانی جاری رکھنے کی اجازت دے۔اجلاس میں سیکرٹری مواصلات جناب علی شیر محسود اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔