چین اور جاپان کے درمیان تعلقات گزشتہ مہینے سے کشیدہ ہیں ،جاپان کو غلط بیانی اور بدنامی بند کرنی چاہیے،چین
بیجنگ:جاپان نے الزام عائد کیا ہے کہ چینی جنگی طیاروں نے اوکیناوا کے قریب جاپانی جنگی طیاروں پر فائر کنٹرول ریڈار استعمال کیا جبکہ چین نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ جاپانی طیارے چینی بحریہ کی مشقوں میں مداخلت کر رہے تھے۔
جاپان نے الزام عائد کیا ہے کہ چینی لڑاکا طیاروں نے اوکیناوا کے جنوبی جزائر کے قریب جاپانی فوجی طیاروں کو فائر کنٹرول ریڈار کے ذریعے نشانہ بنایا۔ جاپان نے اسے نہایت خطرناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیا اور چین کے خلاف باضابطہ احتجاج کیا ہے۔ چین نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جاپانی طیارے چینی بحریہ کی مشقوں میں مداخلت کر رہے تھے۔
جاپانی وزیر دفاع شنجیرو کوئی زومی نے کہا کہ ہفتے کے روز اوکیناوا کے قریب پیش آنے والے دو حادثات میں چینی جنگی طیاروں نے جاپانی طیاروں کو فائر کنٹرول ریڈار سے نشانہ بنایا، جو فضائی سلامتی کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق یہ کارروائی محفوظ پرواز کے تقاضوں سے کہیں آگے تھی۔
چین نے جاپان کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مقف اپنایا کہ جاپانی طیارے بار بار چینی بحریہ کے قریب آئے اور ان کی کارروائیوں میں خلل ڈال رہے تھے۔ چینی بحریہ کے ترجمان کرنل وانگ شوئیمینگ نے کہا کہ چین مشرقی میاکو اسٹریٹ کے قریب پہلے سے اعلان شدہ بحری مشقیں کر رہا تھا، جن کے دوران جاپانی طیاروں کی پروازیں خطرناک ثابت ہو رہی تھیں۔
یہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ برسوں کے سب سے سنجیدہ فضائی تصادم ہیں، جو خطے میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ جاپان نے اس واقعے کے بعد F-15 لڑاکا طیارے اسکرمبل کیے، جبکہ چین کے طیارے لیا ننگ طیارہ بردار جہاز سے اڑائے گئے۔
چینی بحریہ کے ترجمان کرنل وانگ ژو مین کا کہنا ہے کہ جاپانی طیارے بار بار چینی بحریہ کے طیاروں کے قریب آئے اور ان کی تربیتی پروازوں میں خلل ڈالا۔ دونوں ممالک کے دعوے والے جزائر کے قریب یہ تصادم گزشتہ چند برسوں میں سب سے سنجیدہ ہے اور خطے میں کشیدگی مزید بڑھا سکتا ہے۔
چین اور جاپان کے درمیان تعلقات گزشتہ مہینے سے کشیدہ ہیں، جب جاپانی وزیر اعظم سانائی تاکائیچی نے خبردار کیا تھا کہ اگر چین نے تائیوان کے خلاف فوجی کارروائی کی اور جاپان کی سلامتی کو خطرہ پہنچا، تو جاپان بھی جواب دے گا۔
فائر کنٹرول ریڈار کا ہدف بنانا ایک دھمکی سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ ممکنہ حملے کا اشارہ دیتا ہے اور ہدف بننے والے طیارے کو بچا کے لیے اقدام کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم جاپان نے نہیں بتایا کہ چینی طیاروں نے ان کے طیاروں کو لاک آن کیا یا نہیں۔
وانگ ژو مین نے کہا کہ جاپان کا بیان غلط ہے اور اس کی کارروائی پرواز کی حفاظت کے لیے خطرہ تھی۔ انہوں نے زور دیا کہ جاپان کو غلط بیانی اور بدنامی بند کرنی چاہیے اور چینی بحریہ اپنے قانونی حقوق اور سلامتی کا دفاع کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرے گی۔




