
اسلام آباد: کامسٹیک نے موغادیشو، صومالیہ میں بینادر یونیورسٹی کے تعاون سے ہسٹوپیتھولوجی میں 5 روزہ تربیتی کورس کا انعقاد کیا ہے۔ کورس کا افتتاح موغادیشو کی بینادر یونیورسٹی میں کیا گیا۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری، کوآرڈینیٹر جنرل کامسٹیک نے اپنے آن لائن استقبالیہ کلمات میں کہا کہ میں بینادر یونیورسٹی کے ریکٹر کو یہ تربیتی کورس منعقد کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ افریقہ میں، ہسٹوپیتھولوجی متعدی بیماریوں، اور دیگر ابھرتے ہوئے صحت کے مسائل کے پھیلا کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کی دیکھ بھال کے موثر انتظام کے لیے متعدی بیماریوں سے لے کر کینسر تک کی درست تشخیص ضروری ہے۔پروفیسر چودھری نے ذکر کیا کہ افریقی خطے میں تربیت یافتہ ہسٹوپیتھولوجسٹ کی دستیابی کافی حد تک محدود ہے۔ مقامی مہارت پیدا کرنے کے لیے ہسٹوپیتھولوجسٹ کی استعداد کار بڑھانے میں سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے۔پروفیسر چوہدری نے بتایا کہ عالمی شہرت یافتہ ہسٹوپیتھولوجسٹ اور کامسٹیک کے ممتاز سکالر پروفیسر ڈاکٹر شاہد پرویز صومالیہ اور افریقہ کے ہسٹوپیتھولوجسٹ کی استعداد کار بڑھانے کے لیے ہسٹوپیتھولوجی کے اس جامع تربیتی کورس کی قیادت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیم میں ڈاکٹر ناصرالدین، ایسوسی ایٹ پروفیسر آف ہسٹوپیتھولوجی، اور ڈاکٹر ذیشان الدین، اسسٹنٹ پروفیسر اور کنسلٹنٹ ہسٹوپیتھولوجسٹ، آغا خان یونیورسٹی، کراچی، پاکستان شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ اس 5 روزہ تربیتی کورس کے شرکا ان ماہرین سے بے پناہ مستفید ہوں گے۔
افتتاحی سیشن سے بینادر یونیورسٹی کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد محمود حسن اور ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد محمود علی نے بھی خطاب کیا۔ پروفیسر حسن نے اس انتہائی اہم تربیتی کورس کے انعقاد پر کامسٹیک کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ تربیتی کورس طبی تعلیم، تربیت اور تحقیق میں بہترین کارکردگی کے حصول کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیماریوں کی تشخیص کے میدان میں ہسٹوپیتھولوجی کا علم کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
پروفیسر شاہد پرویز نے کہا کہ ہسٹوپیتھولوجی کے بغیر ادویات کی دنیا اندھی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہسٹوپیتھولوجی لیب ٹیسٹوں میں تشخیص میں بہت اہم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہسٹوپیتھولوجی کا کردار مکمل طور پر پریکٹیشنرز کی مہارت اور علم پر منحصر ہے، جو صرف سیکھنے اور مسلسل مطالحہ سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ہسٹوپیتھولوجی اور متعلقہ شعبوں کے تقریبا 100 پریکٹیشنرز اس تربیتی کورس میں ذاتی طور پر شریک ہیں۔



