شہبازشریف کی بات چیت کی پیشکش دوغلاپن اور متضاد موقف ہے
حکومت محمود اچکزئی اورعلامہ راجہ ناصرعباس سے رابطہ کرسکتی ہے،شیخ وقاص اکرم
اسلام آباد(نیوزرپورٹر)پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) نے وزیراعظم شہباز شریف کی مذاکرات کی پیش کش کو مسترد کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنما شیخ وقاص اکرم کا کہنا ہے کہ حکومت کا انداز سیاسی گھبراہٹ،فکری دیوالیہ پن کی علامت ہے، حکومت مذاکرات کو ایک دوغلے پن اور عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سے معافی مانگنے کا مطالبہ حکومت کی سیاسی گھبراہٹ اورفکری دیوالیہ پن ہے، حکمرانوں کو پیشگی شرائط پر مبنی بات چیت کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ حکومت موجودہ بحرانوں کا مذاکراتی حل تلاش کرنے کیلئے تحریک تحفظ آئین پاکستان سے بات کرسکتی ہے۔
شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ حکومت محمود اچکزئی اورعلامہ راجہ ناصرعباس سے رابطہ کرسکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کسی بھی صورت میں حکومت کے ساتھ بات چیت میں شامل نہیں ہوگی، شہبازشریف کی بات چیت کی پیشکش دوغلاپن اور متضاد موقف ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر تحریک انصاف کو مذاکرات کی دعوت دی تھی۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کے ساتھی مذاکرات کی بات کر رہے ہیں، پی ٹی آئی قیادت کو پہلے بھی مذاکرات کی دعوت دے چکا ہوں۔ اسمبلی فلور پر بھی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت دی، انہیں ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دیتا ہوں لیکن جائز مطالبات پر ہی مذاکرات ہو سکتے ہیں، مذاکرات کی آڑ میں بلیک میلنگ نہیں چلے گی۔
جبکہ دوسری طرف اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے حکومت کی مذاکرات کی پیشکش قبول کرلی ہے۔ محمود خان اچکزئی کی زیرصدارت تحریک تحفظ آئین پاکستان کا اجلاس ہوا جس میں علامہ راجہ ناصرعباس، رہنما بی این پی مینگل ساجد ترین، پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کے علاوہ مصطفی نواز کھوکھر اور ترجمان اپوزیشن اتحاد اخونزادہ حسین یوسفزئی شریک ہوئے۔اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ پارلیمان، قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کی پاسداری آئینی اور جمہوری اقدارکی مضبوطی کے لیے مذاکرات پر تیار ہیں۔اپوزیشن اتحاد کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتیں آئین کی بحالی، پارلیمانی اور سویلین بالادستی کے لیے اتفاق کریں تو تیار ہیں۔
ترجمان اپوزیشن اتحاد نے بتایا کہ اپوزیشن شفاف انتخابات اور متفقہ الیکشن کمشنرکے تقررکے لیے مذاکرات پر تیار ہے۔ سیاسی اور معاشی بحران، امن وامان اورگورننس کے فقدان سے نکالنے کے لیے میثاق اہم ہے، مایوسی کے خاتمے کے لیے نئے میثاق کی اشد ضرورت ہے، نئے میثاق پربانی پی ٹی آئی کے دستخط کی ذمہ داری محمود اچکزئی اٹھاتے ہیں۔
اس حوالے سے جیو نیوز کے پروگرام ‘آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ’ میں گفتگو کرتے ہوئے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے نائب صدر مصطفی نواز کھوکھر نے بتایا کہ وہ آئین اور نئے میثاق پر حکومت سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔مصطفی نواز کھوکھرکا کہنا تھا کہ ہم ڈائیلاگ کے لیے تیار ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ مذاکرات کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے، وزیراعظم کی گفتگو اور بیان کو ہم نے سنجیدگی سے لیا ہے، پی ٹی آئی سمیت تمام اتحادی جماعتوں کو مشاورت میں شامل کیا ہے۔مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ محمود اچکزئی کہہ چکے ہیں کہ اگر حکومت سنجیدہ ہے تو بانی پی ٹی آئی کے دستخط وہ لیں گے، مذاکرات میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی یا کیسزکے خاتمے کا مطالبہ نہیں کریں گے، آئین اور نئے میثاق پر حکومت سے بات چیت کیلیے تیار ہیں، حکومت آگے بڑھے گی تو نئے مرحلے کا ہم سوچیں گے۔
دوسری طرف پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے اپوزیشن الائنس کی قیادت کو مذاکرات کرنے یا نہ کرنیکا مکمل اختیار دیا ہے ، بانی پی ٹی آئی اور پوری جماعت کو محمود خان اچکزئی اورعلامہ راجا ناصر عباس پر مکمل اعتماد ہے ۔




