چین کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان یو شیاو یونگ کابل پہنچ گئے افغانستان کے وزیرخارجہ سے ملاقات
خطے کے استحکام اور سلامتی کے لئے ضروری ہے کہ سفارتکاری اور مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کو ختم کیا جائے
مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں، امارتِ اسلامیہ کے سفارتی دروازے اب بھی کھلے ہیں تاہم اپنی سرزمین اور عوام کے دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں، افغان وزیر دفاع
اسلام آباد:ایران امریکہ جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ چین نے پاکستان اور افغانستان کے مابین گزشتہ 10 دنوں سے جاری کشیدگی ختم کرانے کیلیے کوششیں شروع کردی ہیں۔اس کیلئے چین کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان یو شیاو یونگ کو کابل بھیج دیا گیا ہے جہاں انھوں نے اتوارکو افغانستان کے وزیرخارجہ امیرخان متقی سے ملاقات کی ہے۔
اس ضمن میں افغان وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ملاقات میں ملا امیرخان متقی اور یو شیاو یونگ کے درمیان دوطرفہ تعاون اور خطے کی خراب ہوتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
چینی مندوب نے افغان حکومت پر زوردیا کہ پاکستان کے ساتھ کشیدگی کو سفارتکاری اور مذاکرات کے ذریعے ختم کیا جائے،دونوں ممالک میں کشیدگی کا خاتمہ خطے کے استحکام اور سلامتی کیلیے ضروری ہے۔یو شیاو یونگ کا کہنا تھا کہ ان کا ملک حالات کو بہتر بنانے کیلیے دونوں ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے۔
چین کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان کے یہ دورہ ایسے موقع پر ہورہا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی جھڑپیں جاری ہیں،پاکستان افغانستان کے اندرزمینی و فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
اسلام آباد میں پاکستانی حکام کاکہنا ہے کہ افغان حکومت سرحد پار سے دہشتگرد گروپوں کو لگام ڈالنے میں ناکام رہی ہے لہذا فوجی کارروائی کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ نہیں۔افغانستان کے اندرٹی ٹی پی کی پناہ گاہیں ہیں جہاں سے وہ پاکستان کے اندر آکر کارروائیاں کرتی ہے۔پاکستان بارہا افغان حکومت کو باور کرا چکا ہے کہ وہ ان کے خلاف کارروائی کرے لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔دوسری طرف افغانستان میں طالبان کی حکومت ہمیشہ سے اس کی تردید کرتی آئی ہے بلکہ اس کا کہنا ہے کہ پاکستان افغانستان کے اندر حملے کرکے اس کی خود مختاری کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
یو شیاو یونگ سے گفتگوکرتے ہوئے امیرخان متقی نے افغانستان کے اندر پاکستان کی کارروائیوں کو جارحیت سے تعبیرکیا اورکہا کہ ان کا ملک تمام مسائل پرامن طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے۔تاہم اپنے ملک اور عوام کا تحفظ افغان حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔چین جس کے پاکستان اور افغانستان دونوں سے اچھے تعلقات ہیں دونوں ملکوں کو مذاکرات کی میزپرلانے کیلئے مسلسل کوششیں کررہا ہے۔
چین کے اسٹریٹجک مفادات اس خطے کے استحکام سے جڑے ہیں۔وہ اس خطے کو باہم ملانے کیلئے بیلٹ اینڈ روڈ اینیشیوٹومنصوبے پر سرمایہ کاری کررہا ہے،اسے اپنی مغربی سرحدوں پرسکیورٹی کی خراب صورتحال پر تشویش ہے۔
سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ چین کی ان سرگرمیوں سے لگتاہے کہ اسے اسلام آباد اورکابل کے درمیان طول پکڑتی کشیدگی پرتشویش ہے کیونکہ اس سے اس کی ان کوششوں کو دھچکا لگنے کا خدشہ ہے جو وہ یہاں اقتصادی روابط کے فروغ اور سکیورٹی تعاون کیلئے کررہا ہے۔
صباح نیوز کے مطابق امارتِ اسلامیہ افغانستان کے وزیرِ دفاع مولوی محمد یعقوب مجاہد نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ افغانستان کسی بھی ملک کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا، تاہم اپنی سرزمین اور عوام کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ افغان حکومت اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گی، لیکن اگر افغان عوام کو دھمکی دی گئی تو اس کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔مولوی محمد یعقوب مجاہد نے بتایا کہ پاکستان کے ساتھ جاری کشیدگی کے باوجود افغانستان نے مسائل کے حل کے لیے ہمیشہ مذاکرات کو ترجیح دی ہے۔پاکستان افغانستان پر بمباری اور سرحدی خلاف ورزیوں کے ذریعے شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے جس کے نتیجے میں خواتین اور بچے بھی شہید ہوئے۔انہوں نے کہا کابل غیر محفوظ ہوگا تو اسلام آباد بھی محفوظ نہیں رہے گا۔انہوں نے الزام لگایا کہ پاکستان میں داعش اور افغان حکومت کے مخالف بعض گروہوں کو منظم کیا جا رہا ہے، تاہم افغانستان اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے، امارتِ اسلامیہ کے سفارتی دروازے اب بھی کھلے ہیں ۔



