ہفتے میں تین چھٹیاں،60 فیصد سرکاری گاڑیاں گرائونڈ
سکول بھی 16 سے 31 مارچ تک بند ،موٹروے پر حد رفتار 100 ہائی ویز پر 80 کر دی گئی
شادی کی تقریبات پر مہمان 200 سے زیادہ نہ ہوں، کھانا بھی ون ڈش ہوگا، نوٹیفکیشن جاری
اسلام آباد(نیوزرپورٹر)حکومت نے ایران امریکہ جنگ کے باعث ہونے والی توانائی کی قلت پر قابو پانے کے لئے مختلف اقدامات کی منظوری دی ہے۔وفاقی حکومت کی جانب سے موجودہ صورت حال اور توانائی بحران کے خدشے کے پیش نظر دیے گئے کفایت شعاری پلان کی منظوری کے بعد کابینہ ڈویژن نے نوٹی فکیشن جاری کردیا۔
کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان نے ایندھن کے تحفظ کے حوالے سے نئے اقدامات کے نفاذ کی ہدایت کر دی ہے، جس کے تحت 60 فیصد سرکاری گاڑیاں گراونڈ، 50 فیصد ایندھن میں کمی جبکہ نجی و سرکاری دفاتر میں 3 روزہ ہفتہ وار تعطیل ہوں گی۔یہ اقدامات تمام وفاقی اداروں، وزارتوں، قانون ساز اداروں، دفاعی اداروں اور عدلیہ پر فوری نافذ العمل ہوں گے جبکہ شادی کی تقریبات میں مہمانوں کی تعداد 200 تک محدود کر دی گئی ہے اور شادی تقریبات میں صرف ایک ڈش پیش کرنے کی اجازت ہوگی۔اس کے علاوہ سڑکوں پر رفتار کی حد میں کمی کر دی گئی، موٹرویز پر رفتار کی حد 90 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ اور ہائی ویز پر 65 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کی گئی ہے۔
نوٹی فکیشن کے مطابق تمام اسکول 16 مارچ سے 31 مارچ 2026 تک موسم بہار کی چھٹیوں کیلئے بند رہیں گے جبکہ امتحانات معمول کے مطابق جاری رہیں گے، اس کے علاوہ تمام کالجز اور یونیورسٹیوں سمیت اعلی تعلیمی ادارے مکمل طور پر آن لائن کلاسز کا انعقاد کریں گے۔
کابینہ ڈویژن کے نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ سرکاری اداروں میں چار روزہ ورک ویک کا نفاذ کیا جائے گا، بینکنگ اور ضروری خدمات ورک فرام ہوم کے احکامات سے مستثنی ہوں گی، جبکہ دیگر محکموں میں 50 فیصد عملہ متبادل دنوں پر ورک فرام ہوم کریگا تاہم ضروری خدمات میں شامل عملہ مستثنی ہوگا۔
نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومتوں کوقومی یکجہتی کے پیش نظران اقدامات کو اپنانے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں ہیں۔
وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے خطے میں جنگی صورتحال اور پیٹرولیم بحران کے سبب سرکاری دفاتر میں ورک فراہم ہوم کا اعلان کردیا جب کہ صوبے بھر کے تعلیمی ادارے10سے 31 مارچ تک بند رہیں گے، پیٹرولیم بحران کے خاتمے تک صوبائی وزرا کے لیے سرکاری فیول بند رہے گا۔ سرکاری افسران کی گاڑیوں کے لیے پٹرول اور ڈیزل الائونس میں 50 فیصد فوری کمی کردی گئی ہے، صوبائی وزرا اور اعلی سرکاری افسر کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے، ناگزیر سیکیورٹی کے لیے صرف ایک گاڑی صوبائی وزرا اور اعلی سرکاری افسر کے ہمراہ ہوگی۔
وزیراعلی پنجاب کے فیصلے کے تحت سرکاری دفاتر میں ورک فرام ہوم کا فیصلہ کیا گیا ہے، صرف ضروری عملہ ہی دفتر آئے گا، اسکول، کالج اور یونیورسٹیاںآج 10 مارچ سے 31 مارچ تک بند رہیں گی، امتحانات شیڈول کے مطابق ہوں گے، اسکول اور تعلیمی ادارے آن لائن کلاسز لے سکیں گے۔
شہریوں کی سہولت کے لیے ای بزنس اور مریم کی دستک کے تحت سروسز جاری رہیں گی، سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے آن لائن اجلاس اور ٹیلی کانفرنسز منعقد ہوں گی، سرکاری آئوٹ ڈور تقریبات پر پابندی لگا دی گئی ہے، ہارس اینڈ کیٹل شو کا ثقافتی تہوار بھی ملتوی کر دیا گیا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی مانیٹرنگ کے لیے ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ پیٹرولیم مانیٹرنگ کمیٹیاں قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پی آئی ٹی بی کو پیٹرولیم مصنوعات کے لئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم تیار کرنے کا ٹاسک دے دیا گیا ہے، ضلعی انتظامیہ، پولیس، پیرا اور دیگر اداروں کے نمائندے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم تیارکرنے والی ٹیم میں شامل ہوں گے۔
وزیراعلی مریم نواز شریف نے ہدایت کی ہے کہ ورک فرام ہوم کے تحت صرف اضافی سپورٹ اسٹاف کی آمد و رفت بند کی جارہی ہے، دفاتر میں کام بند نہیں ہوگا، نجی سیکٹر کو ورک فرام ہوم، غیر ضروری تقریبات نہ کرنے اور صرف ضروری اسٹاف بلانے کی ایڈوائزری جاری کی جائے۔
وزیراعلی مریم نواز شریف کی ہدایت دی کہ تمام اضلاع میں ٹرانسپورٹ کرایوں کی سخت نگرانی کی جائے، زائد اور ناجائز کرائے وصول کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے، پنجاب میں اشیائے خوردونوش کی طلب و رسد کی سخت نگرانی کی جائے۔ہنگامی حالات کے پیش نظر عوام لیٹ نائٹ شاپنگ سے گریز کریں، ضروری اشیا کی غیر ضروری خریداری یا ذخیرہ نہ کریں، مشکل حالات میں قوم کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے، بہادر قومیں مشکل حالات کا اتحاد، صبر اور دانش مندی سے مقابلہ کرتی ہیں۔
سماجی ویب سائٹ فیس بک پر پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ گریڈ 8 کے امتحانات شیڈول کے مطابق ہوں گے، اسکول بیسڈ اسسمنٹ کا عمل بھی متاثر نہیں ہوگا، بورڈ امتحانات بھی شیڈول کے مطابق جاری رہیں گے،
مریم نواز نے اپیل کی کہ بحرانی صورتحال کے پیش نظرعوام آئوٹ ڈور تقریبات منعقد نہ کریں۔


