اقوام متحدہ میں روس اور چین کھل کر امریکہ کے سامنے آگئے

رو س کی ایران پر حملے فوری روکنے کی قرارداد امریکہ نے ویٹو کر دی جس پر روس اور چین نے ایران کے خلیجی ممالک پر حملے روکنے کی قرارداد کی حمایت نہ کی
پاکستان نے خلیجی ممالک پر ایران کے حملے روکنے کی قرارداد کی حمایت کے ساتھ ساتھ روس کی جنگ بندی قرارداد کی بھی حمایت کی
چار ارکان نے روسی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا دو نے مخالفت کی جبکہ ٩ غیر حاضر رہے، امریکی ویٹو کے باعث قرارداد منظور نہ ہوسکی

اسلام آباد،نیویارک (رپورٹ : محمد رضوان ملک) ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد اقوام متحدہ میں روس اور چین کھل کر امریکی بدمعاشی کے مقابل آگئے ہیں۔جب امریکہ نے اقوام متحدہ میں روس کی جنگ بندی قرارداد ویٹو کی تو روس اور چین نے ایران کے خلیجی ممالک پر حملوں کے خلاف قرارداد کی حمایت نہ کی ۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرق وسطی کی صورتحال پر پیش کی گئی روس کی جنگ بندی قرارداد امریکا کے ویٹو کے باعث منظور نہ ہو سکی۔قرارداد کے حق میں چار ارکان نے ووٹ دیا جبکہ دو نے مخالفت کی اور نو ارکان ووٹنگ کے وقت غیر حاضر رہے۔روس کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں خطے میں فوری جنگ بندی اور ایران پر ہونے والے حملوں کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا تاہم امریکا کے ویٹو کے باعث یہ قرارداد منظور نہ ہو سکی۔
ادھر سلامتی کونسل نے ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں کے خلاف ایک الگ قرارداد منظور کر لی۔
خلیجی ریاستوں کی طرف سے تیار کیے گئے مسودے کے حق میں 13 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ چین اور روس ووٹنگ کے عمل میں شریک نہیں ہوئے۔ پاکستان نے اس قرارداد کی حمایت کی۔قرارداد میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ خلیجی ممالک پر حملے فوری طور پر بند کرے۔ متن میں کہا گیا کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس میں روسی مندوب نے خطاب کرتے ہوئے مقف اختیار کیا کہ خطے میں کشیدگی اس وقت بڑھی جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی شہری آبادی کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے اور ایران پر حملے فوری طور پر بند ہونے چاہئیں۔