اسرائیل کی خوشنودی کے لئے ایران پر حملے نے ٹرمپ کو تنہا کردیا
ایران اسرائیل اور امریکہ کے گلے کی وہ ہڈی بن چکا جسے وہ نہ نگل سکتے نہ تھوک سکتے ہیں
ٹرمپ کے متکبرانہ اور توہین آمیز روئیے نے پہلے پڑوسیوں ، پھر نیٹو اور پھر یورپ کو ناراض کر دیا
آبنائے ہرمز کی طویل بندش، ٹرمپ کے پاس آپشنز محدود ہیںسابق توانائی مشیرنے بھی خبردار کر دیا
اسٹریٹجک ذخائر کا استعمال یا گیس ٹیکس میں کمی جیسے اقدامات محض عارضی اور ثانوی نوعیت کے ہیں
اگر امریکا فوری جنگ ختم بھی کر دے تو بھی اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ ایران آبنائے ہرمز کو کھول دے گا
دنیا سے مانگے جانے والی مدد پر بھی کسی ملک نے مثبت جواب نہیں دیا، ٹرمپ کی مشکلات اور تنہائی میں اضافہ
اسلام آباد(محمدرضوان ملک) جارح مزاج امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیل کی خوشی کی خاطر نہ صرف اپنی بلکہ امریکہ کی عزت کا بھی جنازہ نکال دیا ہے اپنی حرکتوں اور دوسروں کے خلاف توہین اور دھمکی آمیز روئیے کے باعث نہ صرف پڑوسیوں سے امریکہ کے تعلقات خراب ہیں بلکہ اب تو نیٹو اور یورپ کے ممالک نے بھی ٹرمپ اور اس کی پالیسیوں سے کنارہ کشی کر لی ہے حتیٰ کہ اس کے سب سے پرانے اور بڑے اتحادی برطانیہ نے بھی امریکہ سے اپنی راہیں جدا کر لی ہیں حالانکہ برطانوی وزیراعظم اسٹارمر نے کسی حد تک ان کا ساتھ دینے کی کوشش کی لیکن ٹرمپ کے توہین آمیز روئیے نے انھیں بھی مایوس کر دیا۔
ٹرمپ کی ان حرکتوں کے باعث ایران اسرائیل اور امریکہ کے گلے کی وہ ہڈی بن چکا جسے وہ نہ نگل سکتے نہ تھوک سکتے ہیں۔وہ تو اب کمبل کو چھوڑنا چاہتے ہیں لیکن کمبل انہیں نہیں چھوڑ رہا۔
اب تو امریکہ کے اندر سے بھی ٹرمپ کی احمقانہ پالیسیوں کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔
:آبنائے ہرمز کی بندش اور ایرا ن کی جانب سے مسلسل مزاحمت نے امریکی صدر ٹرمپ کے اوسان خطا کر دئیے ہیں اور اب بظاہر ایسا لگتا ہے کہ امریکا اس جنگ سے نکلنا چاہتا ہے لیکن اسے کوئی راستہ دکھائی دے رہا ہے نہ کچھ سجھائی دے رہا ہے ۔لگتایہی ہے کہ جو جنگ امریکہ اور اسرائیل نے شروع کی تھی اس کا اختتام ایران ہی کرے گا۔
امریکا کے سابق وائٹ ہائوس توانائی مشیر باب مکنیلی نے بھی خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی طویل بندش کا کوئی موثر پالیسی حل موجود نہیں ہے، صدر ٹرمپ کے پاس آپشنز محدود ہیں۔ ایک انٹرویو میں ان کا کہناتھا کہ فوجی نگرانی، تیل کے اسٹریٹجک ذخائر کا استعمال یا گیس ٹیکس میں کمی جیسے اقدامات محض عارضی اور ثانوی نوعیت کے ہیں۔
باب مکنیلی نے کہاکہ ان میں سے زیادہ تر یا تو علامتی ہیں یا غیر مثر، جبکہ کچھ فیصلے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔باب مکنیلی نے کہا کہ اصل حل صرف یہی ہے کہ آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کو مکمل طور پر بحال کیا جائے، تاہم اگر امریکا فوری طور پر جنگ ختم کرنے کا اعلان بھی کر دے تو بھی اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ ایران آبنائے ہرمز کو کھول دے گا اور صورتحال معمول پر آ جائے گی۔
ان کے مطابق ایران اگر مسلسل یہ صلاحیت ظاہر کرتا رہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں جب چاہے جہازوں کو نشانہ بنا سکتا ہے تو وہاں سے عالمی بحری آمدورفت کو متاثر کرنے کے لیے یہی کافی ہوگا۔



