آبنائے ہرمز کا ایک آزاد بین الاقوامی راستے کے طور پر برقرار رکھا جانا ضروری ہے،امارات کی وزیر مملکت ریم الہاشمی کا بیان
اسلام آباد: خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران متحدہ عرب امارات نے پہلی بار ایران کے حوالے سے انتہائی سخت اور غیر معمولی مؤقف اختیار کرے، جس نے سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ان کا یہ بیان دنیا میں تنہا ہوتے امریکہ اور اسرائیل کے لئے تازہ ہوا کا ایک جھونکا ہے۔
یو اے ای کی وزیر مملکت برائے بین الاقوامی تعاون ریم الہاشمی نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کے خاتمے کے بغیر کوئی بھی سکیورٹی معاہدہ قابل قبول نہیں ہوگا۔ ریم الہاشمی نے اپنے بیان میں اس بات پر بھی زور دیا کہ اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کسی ایک ملک کے کنٹرول میں نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے ایک آزاد بین الاقوامی راستے کے طور پر برقرار رکھا جانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق اس گزرگاہ کی بندش یا اس پر کسی ایک ملک کا غلبہ نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی شدید خطرہ بن سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ سکیورٹی معاہدے میں اس کی عسکری اور حساس صلاحیتوں کا واضح خاتمہ شامل ہونا چاہیے، جن میں میزائل پروگرام، ڈرون ٹیکنالوجی، بحری طاقت اور یورینیم افزودگی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ان عناصر کو کنٹرول نہیں کیا جاتا، خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں ہوگا۔
ان کے اس بیان کو خطے میں طاقت کے توازن سے متعلق ایک بڑا اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک سے دنیا بھر کو تیل، گیس اور کھاد کی بڑی مقدار برآمد کی جاتی ہے، اور یہ سب ترسیل زیادہ تر آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر اس گزرگاہ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو عالمی سپلائی چین بری طرح متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں توانائی بحران اور مہنگائی میں شدید اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
امارات کی جانب سے ایران کے خلاف یہ سخت موقف امریکہ اور اسرائیل کے لئے ہوا کا تازہ جھونکا ثابت ہو سکتا ہے۔




