واشنگٹن:امریکی صدر پر قاتلانہ حملہ با ل بال بچ گئے


حملے میں امریکی صدر اور ان کی اہلیہ محفوظ رہے،میلانیہ سخت صدمے میں ہیں
حدف میں ہی تھا ،واقع کا ایران جنگ سے تعلق نہیں جلد حقائق معلوم ہو جائیں گے ،ٹرمپ

< واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ ہو اہے تاہم امریکی صدر اس میں محفوظ رہے۔ حملہ صدر کے صحافیوں کے ساتھ ڈنرکی تقریب کے دوران ہوا۔ سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے کی ویڈیو اور ملزم کی تصویر ٹرمپ نے اپن سوشل میڈیا ہنی پر جاری کر دی ۔جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ اور نے سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر کھڑے اہلکاروں پر فائرنگ کی اور دوڑتا ہوا گزر گیا سیکیورٹی اہلکار اپنےہتھیا ر سنبھالتے رہ گئے۔ بعد میں وائٹ ہاؤس میں بات کرتے ہوئے ٹرم نے بتایا کہ مشتبیٰ شخص نے تقریبا 50 گز کے فاصلے سے دوڑ کر حملہ کرنے کی کوشش کی ۔حملہ اور کو پکڑ لیا گیا ہے ۔حملہ کرنے والے شخص کے پاس کئی ہتھیار تھے ایک اہلکار کو گولی لگی مگر وہ لائف جیکٹس کی وجہ سے محفوظ رہا امریکی صدر نے خیال ظاہر کیا ہے کہ وہی حملہ اور کا ہدف تھے واقعی کا ایران جنگ سے کوئی تعلق نہیں امریکی صدر نے کہا ہے کہ ملزم نے گرفتاری کے دوران سخت مزاحمت کی ہم جلد معلوم کر لیں گے کہ اصل واقعہ کیا تھا۔ سصدر ٹرمپ کی جانب سے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں عشائیے کے دوران فائرنگ کی اوازیں ائیں جس سے بال روم میں افراد تفری مچ گئی لوگ ٹیبلوں کے نیچے بیٹھ گئے تاہم سیکورٹی اہلکاروں نے فوری اندر داخل ہو کر پوزیشنیں سنبھال لیں سیکرٹ سروسز نے صدر ٹرمپ کو حصار میں لیا کچھ دیر نیچے بٹھایا اور پھر حال سے باہر لے گئے خاتون اول ملانیہ ٹر مپ اور دیگر افراد شریک تھے سیکیورٹی اہلکاروں نے کچھ مہمانوں کے عمارت سے باہر منتقل کرنے میں مدد فراہم کی صدر ٹرم نے کہا ہے کہ تقریب 30 دن کے اندر دوبارہ منعقد کی جائے گی واقع سے خاتون اول میلانیہ ٹرمپ شدید صدمے میں ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ھملہ آور کی شنا خت31 سال کے گول تھامس ایل این کے طور پر ہوئی ہے جو کیلیفورمیا کے شہر ٹرز کا رہائشی بتایا جاتا ہے میڈیا بریفنگ میں بتایا گیا کہ واحد مصلح شخص لابی میں سیکر سروس کی طرف بڑھا جس سے سیکرٹ سروس کی ایک اہلکار نے روک دیا ، مشتبیٰ شخص نے حملہ کیوں کیا مشتبیٰ شخص کا ہدف کون تھا یہ تحقیقات کا حصہ ہے ہوٹل کی ویڈیو فٹیج کا جائزہ لیا جائے گا کہ حملہ اور ہتھیار کے ساتھ اندر کیسے داخل ہوا مبینہ حملہ آور کے پاس ایک شارٹ گن ایک ہینڈ گن اور متعدد چاقو تھے ابتدائی معلومات کی بنیاد پر خیال ہے کہ مشتبیٰ شخص ہوٹل میں مہمان تھا ملزم کو پیر کے روز عدالت میں فرد جرم عائد کرنے کے لیے پیش کیا جائے گا۔ اصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے واشنگٹن فائرنگ کے واقعے کے مذمت کی ہے اور صدر ٹرمپ اور خاتون اول کے محفوظ رہنے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا واقعہ دہشت گردی کی گھنائونی شکل ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔