سلامتی کونسل میں یہ قرارداد واشنگٹن کی ایک اور غیرمتوازن اور اشتعال انگیزکوشش ہے،روس
قرار د کا مقصد بحران کی اصل وجوہات نظر انداز کر کے ایران کو تنہا کرنا ہے۔ روسی مندوب
کشیدگی کی اصل وجہ امریکہ و اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی جارحیت ہے۔ عباس عراقچی
نیویارک:سلامتی کونسل میں امریکہ کو ایک بڑا دھچکا اس وقت لگا جب روس نے امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی قرارد کو مسترد کر دیا ۔ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق روسی مندوب نے کہا کہ سلامتی کونسل میں قرارداد واشنگٹن کی ایک اور غیرمتوازن اور اشتعال انگیزکوشش ہے۔
امریکا نے بحرین، سعودی عرب، یواےای، کویت اور قطرکی حمایت یافتہ قرارداد پیش کی تھی جس میں ایران سے آبنائے ہرمز میں حملے روکنے اورٹول ختم کرنے کا مطالبہ تھا۔
تاہم روس نے سلامتی کونسل میں امریکہ کی جانب سے پیش کی جانے والی ایران مخالف قرارداد دو ٹوک انداز میں مسترد کر دی ،روس کی جانب سے اس قرارداد کو ویٹو کیے جانے کا بھی امکان ہے۔ روسی مشن کے جاری بیان میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کی بھی حمایت کی گئی اور امید ظاہر کی کہ یہ اقدامات مثبت نتائج دیں گے ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق روسی سفیر وسیلی نے قرار دیا جس کا مقصد بحران کی اصل وجوہات نظر انداز کر کے ایران کو تنہا کرنا ہے روسی مندوب نے خبردار کیا کہ جانبدارانہ قراردادیں مشرق وسطی میں کشیدگی کی نئی لہر کو جنم دے سکتی ہیں۔
سلامتی کونسل میں امریکی سفیر کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کنٹرول کرنے کے لیے ایران کا نیا نظام نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو متاثر کرے گا ایران اپنے نئے نظام میں سویلین شپنگ کے تمام جہازوں سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز استعمال کرنے کے لیے ٹول ادا کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس سے باز رہے۔
دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سیکرٹری جنرل اقوام لکھے ایک خط میں قرارداد کا مسودہ یکطرفہ اور نامکمل قرار دیا ہ۔ ان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال کی اصل وجہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیلی فوجی جارحیت اور طاقت کا غیر قانونی استعمال ہے اس بات کا قرارداد کے مسودے میں کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔



