پاکستان اور چین نے مل کر روشن مستقبل کی بنیاد رکھ دی ہے

پاکستان کو قرضے نہیں، مہارت اور سرمایہ کاری چاہیے،مفاہمتی یادداشتوں کو تیزی سے معاہدوں میں بدلنا وقت کی ضرورت ہے

ہانگڑو:وزیراعظم پاکستان میاں شہبازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین نے مل کر روشن مستقبل کی بنیاد رکھ دی ہے اور پاکستان جلد
جلد خطے میں ترقی کے سفر میں چین کا ہم قدم ہوگا.ان خٰیالات کا اظہار انہوں نے ہانگزوں میں چینی کاروباری شخصیات سے خطاب میں
کیا. شہباز شریف کی چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کراچی میں چھ ہزار ایکڑ پر عالمی معیار کا خصوصی اقتصادی زون بنایا ہے جہاں سرمایہ کاروں کو خصوصی سہولیات ملیں گی .انہوں نے کہا پاکستان کو قرضے نہیں، مہارت اور سرمایہ کاری چاہیے، چین کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں کو تیزی سے معاہدوں میں بدلنا وقت کی ضرورت ہے
پاکستان اور علی بابا کے درمیان طویل مدت کے تعاون کے معاہدے پر دستخطبی ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا پاکستان اور چین نے مل کر روشن مستقبل کی بنیاد رکھ دی ہے معاہدے سے دونوں ملکوں کو فائدہ ہوگا ہماری گورننس اور کاروبار میں مزید شفافیت ائے گی وزیراعظم کی ہانگ زوم میں مختلف چینی کمپنیوں کے الہ عہدے داروں سے ملاقاتیں بھی ہوئیں الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ انفراسٹرکچر اور سمارٹ موبلٹیز سسٹمز پر تعاون پر بھی گفتگو ہوئی .
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا پاک چین دوستی سمندر سے گہری، ہمالیہ سے بلند اور اب آسمانوں کو چھو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ خوبصورت شہر ہانگژو صدر شی جن پنگ کے وژن کا نتیجہ ہے، صدر شی جن پنگ نے چین کو عالمی معاشی و عسکری طاقت بنایا، پاکستان جلد خطے میں ترقی کے سفر میں چین کا ہم قدم ہوگا، 30 فیصد ایم او یوز معاہدوں میں بدل چکے، جن کی مالیت اربوں ڈالر ہے۔
ان کا کہنا تھا پاکستان کی نوجوان آبادی کو آئی ٹی ٹریننگ اور عالمی سرٹیفکیشن دے رہےہیں، چین کے ساتھ تعاون کے چار شعبے زراعت، آئی ٹی، اکنامک زونز، مائنز اینڈ منرل اہم ہیں، ایم او یوز کو تیزی سے معاہدوں میں بدلنا وقت کی ضرورت ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا پاکستان میں معدینات کے بڑے ذخائر موجود ہیں، سرمایہ کاروں کو دعوت دیتا ہوں آئیں اور سرمایہ کاری کریں، پاکستان کو قرضے نہیں، مہارت اور سرمایہ کاری چاہیے، زراعت میں پیدا وار بڑھانے کے لیے بیج، مشینری اور بہترین طریقے چاہئیں، دیہی علاقوں میں لاکھوں چھوٹے کاروبار پیدا کریں گے، ویلیو ایڈیشن کریں گے۔وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا اکنامک زون میں ون ونڈو آپریشن اور ریڈ کارپیٹ ٹریٹمنٹ ملے گا، کراچی میں 6 ہزار ایکڑ پر ورلڈ کلاس اسپیشل اکنامک زون بنا رہے ہیں۔