مقدس ہستیوں کے خاکے جیو کا لائسنس منسوخ کرنے کے لئے پیمرا کو درخواست

درخواست تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ پاکستان اور آل پاکستان مقدس اوراق یونین کی جانب سے دی گئی ہے
جیو نیوز ٹی وی کے ماضی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مذموم ایجنڈے کے تحت اس طرح کے سنگین جرائم کا تسلسل کے ساتھ ارتکاب کر رہا ہے
جیو نیوز ٹی وی کی جانب سے مقدس ہستیوں کے خاکے نشر کرنا کوئی غلطی نہیں بلکہ ایک سنگین جرم ہے۔جسے غلطی قرار دیکر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا
پیمرا آرڈیننس کی دفعہ 30 کے تحت جیو نیوز ٹی وی کا لائسنس منسوخ اور دفعہ 33 کے تحت چینل کےمالک سمیت دیگر کے خلاف فوجداری کاروائی کی جائے

اسلام آباد(نیوزرپورٹر)دس محرم الحرام کو دستاویزی فلم میں مقدس ہستیوں کے خاکے نشر کرنے پر نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کا لائسنس منسوخ کرنے اور اس کے چیف ایگزیکٹو سمیت دیگر متعلقہ افراد کے خلاف فوجداری کاروائی کے لئے پیمرا کو درخواست دے دی گئی ہے ۔تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ پاکستان اور آل پاکستان مقدس اوراق یونین کی جانب سے پیمرا کو دی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگر مذکورہ نجی ٹی وی چینل کے جرائم اور قانون کی خلاف ورزیوں کے ریکارڈ دیکھا جائے تو اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مذکورہ نجی ٹی وی چینل کی جانب سے مقدس ہستیوں کے خاکے نشر کرنا کوئی غلطی نہیں بلکہ ایک سنگین جرم ہے۔جس کی پاداش میں مذکورہ نجی ٹی وی چینل کے لائسنس کو منسوخ کرنا ہی قانون کا تقاضہ ہے۔
تفصیلات کے مطابق جنرل سیکریٹری تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ پاکستان حافظ احتشام احمد اور آل پاکستان مقدس اوراق یونین کے صدر شیراز احمد فاروقی کی جانب سے دستاویزی فلم میں مقدس ہستیوں کے خاکے نشر کرنے پر نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے لائسنس کی منسوخی اور مذکورہ ٹی وی چینل کے سی ای او سمیت دیگر متعلقہ افراد کے خلاف فوجداری کاروائی کے لئے چیئرپرسن پیمرا کو درخواست دے دی گئی۔مذکورہ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ”دس محرم کو مذکورہ نجی ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے دستاویزی فلم سفر عشق میں مقدس ہستیوں بالخصوص حضور ﷺ کی بصری تمثیلات،خاکے،تشبیہات نشر کی گئی،نعوذ باللّٰہ۔مقدس ہستیوں بالخصوص حضور کے خاکے بنانا،ان کی بصری نمائندگی پیش کرنا ناجائز و حرام عمل ہے۔مذکورہ عمل ناموس رسالتؐ کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ توہین رسالت کے زمرے میں بھی آتا ہے۔جیو نیوز ٹی وی کے مذکورہ ناجائز و حرام عمل کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ درخواست گزار سمیت کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات شدید مجروح ہوئے بلکہ پاکستان کے طول و عرض میں اضطراب،غم و غصہ کی ایک شدید لہر بھی پیداء ہوئی۔
یہ امر لائق تحسین ہے کہ پیمرا نے فوری طور پر مذکورہ معاملے کی حساسیت و نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے عوامی جذبات کو کنٹرول کرنے اور ملک میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے لئے جیو نیوز ٹی وی کے لائسنس کو پندرہ دنوں کے لئے معطل کرتے ہوئے اس کی نشریات پر پندرہ دنوں کے لئے پابندی عائد کر دی”۔درخواست میں مزید یہ موقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ”جیو نیوز ٹی وی کے مذکورہ عمل کو غلطی قرار نہیں دیا جاسکتا اور نہ اسے غلطی قرار دیکر نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔جیو نیوز ٹی وی کے جرائم اور قانون کی خلاف ورزیوں کی فہرست بہت طویل ہے۔ماضی قریب اور ماضی بعید میں میں جیو نیوز ٹی وی نے متعدد مواقعوں پر نہ صرف یہ کہ اسلامی عقائد و نظریات،نظریہ پاکستان اور ریاستی اداروں پر حملے کئے بلکہ جیو نیوز ٹی وی نے سوشل میڈیا کے ذریعے مقدس ہستیوں اور شعائر اسلام،بالخصوص حضور ﷺ کی توہین پر مبنی گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ملزمان کی سہولت کاری کرتے ہوئے ان کے خلاف متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فاضل عدالتوں کی جانب سے جاری کاروائی کے عمل کو متنازع بنانے کی بھی کوششیں کیں۔
اس موقع پر یہ بات بھی انتہائی قابل ذکر و قابل توجہ ہے کہ جیو انٹرٹینمنٹ پر”ضبط”کے نام سے ایک ڈرامہ سیریل نشر کیا جارہا ہے۔مورخہ 20 جون 2026 کو نشر کی جانے والی مذکورہ ڈرامہ سیریل کی 20ویں قسط میں ایک اداکارہ کی جانب ایسی کتاب کو پھینکتے ہوئے دکھایا گیا تھا کہ جس کتاب کے ٹائٹل پر مسجد نبوی ﷺ موجود تھا۔ماضی قریب و ماضی بعید میں جیو نیوز ٹی وی نے جس قدر سنگین جرائم اور قانون کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا، اگر اس وقت قانون کے مطابق جیو نیوز ٹی وی کے لائسنس دار سمیت دیگر متعلقہ حکام کا محاسبہ کیا جاتا تو پھر جیو نیوز ٹی وی کو یہ جسارت نہ ہوتی کہ وہ مقدس ہستیوں بالخصوص حضور ﷺ کی بصری نمائندگی/خاکے نشر کر کے سرخ لکیر کو عبور کرتا۔جیو نیوز ٹی وی کے سابقہ کردار اور ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے اگر کڑیوں کو ملایا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ مورخہ 26 جون 2026 کو جیو نیوز ٹی وی نے جو مذکورہ ناپاک جسارت کی،وہ کوئی غلطی نہیں،بلکہ ایک سنگین جرم ہے۔بادی النظر میں جیو نیوز ٹی وی کسی مذموم ایجنڈے/منصوبے کے تحت تسلسل کے ساتھ ایک کے بعد ایک سنگین جرم کا ارتکاب کر رہا ہے۔جسے کسی طور پر بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ خاص طور پر اب کہ جب جیو نیوز ٹی وی نے سرخ لکیر کو عبور کرتے ہوئے درخواست گزار سمیت کروڑوں مسلمانوں کے دلوں پر وار کیا ہے،تو جیو نیوز ٹی وی کے لائسنس دار سمیت دیگر متعلقہ افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کاروائی ہونی چاہئیے۔جیو نیوز ٹی وی نے مورخہ 26 جون 2026 کو مذکورہ ناپاک جسارت کے ذریعے پیمرا آرڈیننس 2002 بذریعہ ترمیم شده پیمرا (ترمیمی) ایکٹ 2007 کی متعدد دفعات بالخصوص مذکورہ آرڈیننس کی دفعہ 20 سمیت پیمرا کی جانب سے مذکورہ آرڈیننس کی دفعہ 39 کے تحت ٹی وی چینلز کے لئے وضع کردہ ضابطہ اخلاق کی متعدد شقوں کی بھی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔مذکورہ بالا تمام حقائق و واقعات کی روشنی میں پیمرا آرڈیننس 2002 بذریعہ ترمیم شده پیمرا (ترمیمی) ایکٹ 2007 کی دفعہ 30 کے تحت جیو نیوز ٹی وی کے لائسنس کی منسوخی اور مذکورہ آرڈیننس کی دفعہ 33 کے تحت جیو نیوز ٹی وی کے لائسنس دار سمیت دیگر متعلقہ افراد کے خلاف فوجداری کاروائی ناگزیر اور قانون کی منشاء کا اہم تقاضہ ہے”۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ”اس امر کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ پیمرا کی جانب سے جیو نیوز ٹی وی کی مذکورہ ناپاک جسارت کے خلاف صرف 15 دنوں کے لئے جیو نیوز ٹی وی کی لائسنس/نشریات کی معطلی کوئی سزاء نہیں بلکہ جیو نیو ٹی وی کی مذکورہ ناپاک جسارت کے خلاف وطن عزیز پاکستان کے طول و عرض میں پیداء ہونے والے اضراب،غم و غصہ کی لہر کو کنٹرول کرنے اور وطن عزیز پاکستان میں امن وامان کو برقرار رکھنے کے لئے ایک فوری و بہتر اقدام تھا۔ورنہ جیو نیوز ٹی وی نے جس قدر سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے،اس جرم کی پاداش میں جیو نیوز ٹی وی کے لائسنس کی منسوخی سے کم کوئی بھی سزاء قانون اور انصاف کے تقاضے کو پورا نہیں کر سکتا”۔درخواست میں یہ استدعا کی گئی ہے کہ”پیمرا آرڈیننس 2002 بذریعہ ترمیم شدہ پیمرا (ترمیمی) ایکٹ 2007 کی دفعہ 30 کے تحت جیو نیوز ٹی وی کے لائسنس کو منسوخ کرنے اور مذکورہ آرڈیننس کی دفعہ 33 کے تحت جیو نیوز ٹی وی کے لائسنس دار سمیت دیگر متعلقہ افراد کے خلاف فوجداری کا روائی کرنے کا حکم صادر فرمایا جائے”۔