وزیرداخلہ کے دل کے ارماں دو دن میں آنسوئوں میں بہ گئے
ان کے اس بیان نے حکومت کی چولیں ہلا دی ہیں اور کانپیں ٹانگ رہی ہیں
سوال اٹھ رہا ہے کہ وہ ان کے اس بیان کے پیچھے کون ہے کہ اور کیا چاہتا ہے
کاش وزیرداخلہ اس بیان بازی سے پہلے خود کو احتساب کے لئے پیش کرتےہوئے مستعفیٰ ہو کر مثال قائم کرتے
وہ بحثیت وزیراعلیٰ پنجاب ، وزیرداخلہ اور چئیرمین کرکٹ بورڈ کی حیثت سے اپنی کارکردگی واضح کرتے
اس بد لتی صورت حال میں ن لیگ کے بڑوںنے سر جوڑ لئے ہیںشہباز کی اسحاق ڈار اور مریم نواز کیساتھ نواز شریف سے ملاقات
اسلام آباد(رپورٹ: محمد رضوان ملک ) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ملک کو مزید انتطامی یونٹس میں تقسیم کرنے کے حوالے سے ارمان دو دن میں آنسوئوں میں بہ گئے ہیں. اس متنازعہ بیان کے بعد سے انہیں ہر جانب سے تنقید کا سامنا ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ یہ ان کی ذاتی سوچ ہے یا کسی نے انہیں اس مشن پر لگایا ہے.
لیکن ان کے اس بیان نے حکومت کی چولیں ہلا دی ہیں اور کانپیں ٹانگ رہی ہیں.
یہاںیہ بات دلچسپی سے خالی نہیںکہ جس حکومت کے وہ وزیر داخلہ ہیں اسی پر تنقید کر رہے ہیں کہ دو چار ہزار کے لیپ ٹاپ نوجوانوں کو مطمئن نہیں کر سکتے لیکن انہوں نے یہ نہیںبتایا کہ انہوں نے عوام اور باالخصوص نوجوانوںکے لئے کیا کیا ہے.
حکومت ساتھی وزرائ اور حکومتی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ بھول گئے کہ اس ٹیم کے سب سے کمزاور کھلاڑی وہ خود ہیں اور شکست کے سب سے زیادہ ذمہ دار بھی وہ خود ہیں.
بحثیت وزیراعلیٰ پنجاب ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے یا وفاقی وزیر داخلہ کی حثیت سے چئیرمین کرکٹ بورڈکے کی حیثیت سے ان کی کارکردگی کو دیکھا جائے ہر جگہ ناکامی اور مایوسی ہی نظر آتی ہے.
جب سے وہ وزیرداخلہ بنے ہیں امن وامان کی صورت حال سب کے سامنے ہیں جبکہ چئیرمین کرکٹ بورڈ کی حیثیت سے تو ان کی کارکردگی اتنی مثالی ہے کہ رشک آتا ہے ٹیسٹ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کی ریکنگ میں دنیا کی ٹاپ کی ٹیم ٹکے ٹوکری ہو کر رہ گئی ہے اور سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک بار جب موصوف سے سوال کیا گیا کہ اگر ایسی صورت حال پیدا ہو جائے کہ انہیںوزات داخلہ یا چئرمین کرکٹ بورڈ میں سے کسی ایک عہدے کا انتخاب کرنا پڑے تو ان کی چوائس کیا ہوگی تو ان کا جواب تھا کہ کرکٹ بورڈ کی چئیرمینی وہ کسی صورت نہیں چھوڑیں گے چاہے وزارت داخلہ ہی کو چھوڑنا پڑے.
تاہم ان کے اس بیان نے حکومتی سطح پر کافی ہلچل مچائی ہے اور ان کے اس بیان پر کچھ ردعمل بھی سامنے آئے ہیں.
سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے سابق رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ وہ پہلے اپنی چار سالہ کاکردگی کو واضح کریں رانا ثنااللہ نے بھی ان پر واضح کیا ہے کہ نوجوان اس حکومت سے سب سے زیادہ مطمئن ہیں.
اس بد لتی صورت حال میں ن لیگ کے بڑوںنے سر جوڑ لئے ہیں، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ہفتہ کے روز رائیونڈ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم محمد نواز شریف سے ملاقات کی، اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار بھی موجود تھے، چاروں شخصیات نے ملاقات میں ملک کی مجموعی اور سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ۔


