دنیا طاقت کی زبان سمجھتی ہے، دلیل کی نہیں۔ تاریخ کی گرد جھاڑ کر دیکھ لیجیے، کسی کمزور قوم کو صرف اس لیے امن نصیب نہیں ہوا کہ اس کے ارادے نیک تھے۔ امن کی خواہش ہمیشہ قابلِ احترام رہی ہے، لیکن امن کی حفاظت ہمیشہ طاقت نے کی ہے۔ یہی وہ تلخ حقیقت ہے جسے بین الاقوامی سیاست بار بار ثابت کرتی ہے۔
ایران گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی دباؤ، معاشی پابندیوں، خفیہ کارروائیوں، سائنس دانوں کی ٹارگٹ کلنگ اور فوجی دھمکیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ اس کے باوجود وہ اپنے قومی وقار پر کھڑا ہے۔ اس استقامت نے ثابت کیا کہ نظریہ رکھنے والی قومیں جھکتی نہیں، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نظریہ اس وقت زیادہ محفوظ ہوتا ہے جب اس کے پیچھے مضبوط دفاع بھی موجود ہو۔
آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا جوہری ہتھیاروں کے بارے میں منقول فتویٰ کہ ایٹم بم بنانا اور استعمال کرنا ناجائز ہے، ایک عظیم اخلاقی سوچ کا آئینہ دار ہے۔ ایسی بلند پایہ شخصیات سے انسانیت کے احترام کا یہی پیغام زیب دیتا ہے۔ میں اس احساسِ انسانیت کو سلام پیش کرتا ہوں، مگر بطور ایک طالبِ علمِ قانون اور ایک عام انسان، میرے ذہن میں ایک سوال مدت سے گردش کر رہا ہے۔
یہ سوال اختلاف کا نہیں، اجتہاد کے دروازے پر دستک دینے کا ہے۔
میری دانست میں دنیا کی کوئی بھی چیز اپنی ذات میں مکمل خیر یا مکمل شر نہیں ہوتی، بلکہ اس کا استعمال اسے خیر یا شر بناتا ہے۔ ہمارے ہاتھ میں موجود موبائل علم بھی پھیلا سکتا ہے اور نفرت بھی۔ دولت انسانیت کی خدمت بھی کر سکتی ہے اور استحصال بھی۔ اقتدار عدل بھی قائم کر سکتا ہے اور ظلم بھی۔ حتیٰ کہ انسان کی سوچ بھی تعمیر کا ذریعہ بن سکتی ہے اور تباہی کا بھی۔ پھر کیا دفاعی صلاحیت کے معاملے میں بھی یہی اصول زیرِ غور نہیں آنا چاہیے؟
اصل سوال یہ نہیں کہ ایٹم بم اچھا ہے یا برا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر دنیا کے طاقتور ممالک خود ہزاروں جوہری ہتھیار رکھیں، اپنی سلامتی انہی پر استوار کریں، لیکن دوسروں کو صرف اخلاقیات کا درس دیں، تو کیا یہ انصاف ہے یا طاقت کی سیاست؟
آج امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس، بھارت، پاکستان اور دیگر جوہری طاقتیں اپنے دفاع کو اسی صلاحیت سے مضبوط سمجھتی ہیں۔ ان میں سے کسی نے اپنے ہتھیار اس لیے تلف نہیں کیے کہ دنیا میں امن قائم ہو جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ طاقتور ممالک دوسروں کو کمزور دیکھنا چاہتے ہیں، کیونکہ کمزور ریاستوں پر دباؤ ڈالنا آسان ہوتا ہے۔
میں یہاں ایک نہایت مؤدبانہ گزارش آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔
اگر مسئلہ ایٹم بم کے استعمال کا ہے تو اس پر سخت ترین شرعی پابندی عائد رہے، کیونکہ اسلام بے گناہ انسانوں کے قتل کی اجازت نہیں دیتا۔ لیکن اگر بحث صرف اس صلاحیت کے حصول کی ہے جو دشمن کو حملہ کرنے سے پہلے سو مرتبہ سوچنے پر مجبور کر دے، تو کیا اس پہلو پر نئے اجتہاد کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی؟
میری ناقص رائے میں صلاحیت (Capability) اور استعمال (Use) ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ ممکن ہے کسی ریاست کے پاس وہ طاقت موجود ہو، لیکن اس کے استعمال پر شرعی، اخلاقی اور قانونی پابندی عائد ہو۔ اگر اس صلاحیت کی موجودگی ہی دشمن کو جنگ سے روک دے تو شاید ہزاروں جانیں بچ سکتی ہیں۔ اس اعتبار سے دفاعی بازدار (Deterrence) خود امن کے تحفظ کا ایک ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
یہ میری ذاتی رائے ہے، اور میں اس امکان کو بھی تسلیم کرتا ہوں کہ اہلِ اجتہاد کے پاس اس سے مختلف اور زیادہ مضبوط دلائل موجود ہو سکتے ہیں۔ مگر سوال اٹھانا، دلیل پیش کرنا اور علمی مکالمہ کرنا اسلامی روایت کا حصہ ہے۔ اجتہاد کا دروازہ اسی لیے ہے کہ ہر دور کے نئے مسائل پر قرآن و سنت کی روشنی میں غور کیا جا سکے۔
تاریخ کا ایک اصول کبھی نہیں بدلا۔ کمزور قوموں کے امن کو اکثر کمزوری سمجھا گیا، جبکہ طاقتور قوموں کی خاموشی کو حکمت کہا گیا۔ دنیا میں جنگیں اکثر وہاں نہیں ہوتیں جہاں دونوں فریق برابر کی قوت رکھتے ہوں، بلکہ وہاں ہوتی ہیں جہاں ایک فریق کو یقین ہو کہ دوسرا جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتا۔
میری خواہش ہرگز یہ نہیں کہ دنیا میں ایک اور تباہ کن ہتھیار کا اضافہ ہو۔ میری خواہش صرف اتنی ہے کہ مسلم دنیا اپنے دفاع کے بارے میں دوسروں کی ضمانتوں پر انحصار نہ کرے۔ امن کی سب سے مضبوط ضمانت صرف نیک نیتی نہیں، بلکہ ایسا دفاع بھی ہے جو دشمن کو جارحیت سے پہلے سوچنے پر مجبور کر دے۔
اگر میری یہ رائے درست ہے تو اس پر علمی بحث ہونی چاہیے، اور اگر غلط ہے تو دلیل سے اس کی اصلاح ہونی چاہیے۔ کیونکہ زندہ قومیں سوال کرنے سے نہیں ڈرتیں، اور زندہ فقہ وہ ہوتی ہے جو بدلتے ہوئے زمانے کے چیلنجز کا سامنا دلیل، حکمت اور بصیرت کے ساتھ کرتی ہے۔



