فائر سیفٹی کے نام پر تاجروں کا معاشی قتل بند کیا جائے، کاشف چوہدری

اسلام آباد (سٹی رپورٹر)مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر کاشف چوہدری نے فائر سیفٹی کے نام پر تاجروں کی دکانیں بند کرنے کی کارروائیوں پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فائر سیفٹی کے نام پر تاجروں کا معاشی قتل کسی صورت قبول نہیں کریں گے، تاجروں کے کاروبار بند نہیں ہونے دیں گے اور ان کے حقوق کے لیے ہر فورم پر بھرپور آواز اٹھائی جائے گی_
کاشف چوہدری متاثرہ تاجروں کے پاس موقع پر پہنچ گئے اور تاجروں کی بھرپور نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ پلازہ مالکان اپنے پلازے فروخت کرکے جا چکے ہیں جبکہ اب ان پلازوں میں کاروبار کرنے والے بے گناہ تاجروں کو کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہےانہوں نے کہا کہ ایک پلازے میں 50 سے زائد دکانداروں میں سے کسی ایک کو بھی نوٹس نہیں دیا گیا اور اچانک ان کے کاروبار بند کر دیے گئے جو تاجروں کے ساتھ سراسر زیادتی ہے_انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے اپنی نااہلی چھپانے کے لیے تاجروں پر ظلم کر رہا ہے،فائر سیفٹی پر عملدرآمد یقیناً ضروری ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جب یہ عمارتیں اور پلازے تعمیر ہو رہے تھے تو متعلقہ ادارے کہاں تھے؟ اگر عمارتیں فائر سیفٹی قوانین کے مطابق نہیں تھیں تو تعمیر کے وقت ان کے نقشے، این او سی اور دیگر منظوریوں کی ذمہ داری کس نے پوری کی؟
کاشف چوہدری نے کہا کہ پمز ہسپتال میں 14 معصوم بچوں کے جاں بحق ہونے کے افسوسناک سانحے کے بعد اداروں کو فائر سیفٹی یاد آ گئی ہےسانحہ ہونے کے بعد اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے کارروائیاں کرنے کے بجائے متعلقہ اداروں کو چاہیے تھا کہ عمارتوں کی تعمیر کے وقت ہی حفاظتی اقدامات یقینی بناتے تاکہ ایسے سانحات سے بچا جا سکتا_انہوں نے کہا کہ اداروں کی غفلت اور نااہلی کا بوجھ تاجروں پر ڈالنا قابل قبول نہیں، تاجروں کے کاروبار بند کرکے ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کیے جا رہے ہیں،پہلے ہی مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں، ٹیکسز اور دیگر معاشی مشکلات نے کاروباری طبقے کو شدید متاثر کر رکھا ہے_مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر کاشف چوہدری نے کہا کہ تاجروں کے خلاف یکطرفہ کارروائیاں فوری طور پر روکی جائیں اور فائر سیفٹی کے نقائص دور کرنے کے لیے مناسب مہلت دی جائےانہوں نے کہا کہ پلازہ مالکان اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں کا تعین کیا جائے اور تاجروں کو قربانی کا بکرا نہ بنایا جائےکاشف چوہدری نے واضح کیا کہ فائر سیفٹی ضروری ہے لیکن اس کے نام پر تاجروں کا معاشی قتل نہیں ہونے دیں گےتاجروں کو تحفظ اور کاروبار کرنے کا حق حاصل ہے، سی ڈی اے کو چاہیے کہ تاجروں کو اعتماد میں لے کر قابلِ عمل حل نکالے اور یکطرفہ کارروائیاں بند کرےانہوں نے کہا کہ اگر تاجروں کے ساتھ یہی ناانصافی جاری رہی اور بلاجواز دکانیں بند کرنے کا سلسلہ نہ روکا گیا تو مرکزی تنظیم تاجران پاکستان سخت احتجاج کرے گی انہوں نے خبردار کیا کہ ضرورت پڑنے پر چیئرمین سی ڈی اے کے دفتر کا گھیراؤ بھی کیا جائے گا اور تاجر اپنا حق لے کر رہیں گے۔
کاشف چوہدری نے کہا کہ فائر سیفٹی کے نام پر کارروائی سے پہلے ذمہ دار افسران اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کا بھی احتساب کیا جائے کہ غیر محفوظ عمارتوں کو تعمیر اور کاروبار کی اجازت کس طرح دی گئی تاجروں کو بے روزگار کرنے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے_