دبئی سے اسرائیل جانے والی پرواز کو تباہ کرنے کی کوشش

کو پائلٹ نے پائلٹ پر چھری سے حملہ کرکے اسے زخمی کردیااور طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی
فلائی دبئی کا طیارہ دبئی سے اسرائیل کے شہر تل ابیب جارہا تھا ،100 سے زائد اسرائیلی مسافر سوار تھے
عملے کے دیگر افراد اور مسافروں‌نے مل کر حملہ آور پائلٹ کو قابو کر لیا طیارے کی سعودی عرب میں‌ہنگامی لینڈنگ

دبئی :فلائی دبئی کے ایک طیارے کودبئی سے اسرائیلی شہر تل ابیت جاتے ہوئے ہائی جیک کر کے تباہ کرنے کی کوشش کو دیگر عملے اور مسافروں‌نے مل کر ناکام بنا دیا اور طیارے کو بحفاظت سعودی عرب کے شہر تبوک میں‌ اتار لیا گیا ہے .اسرائیل نے واقعے کو کھلی دہشت گردی قراردیا ہے . اسرائیلی میڈیا رپورٹس میں‌دعویٰ کیا گیا ہے کہ معاون پائلٹ عمانی شہری ہے جو طیارے کو کریش کرنا چاہتا تھا؛
تفصیلات کے مطابق دبئی سے اسرائیل کے شہر تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی مسافر پرواز FZ1073 میں ہائی جیکنگ اور دہشت گردی کی خونریز کوشش ناکام بنا دی گئی، عمانی پائلٹ نے دوسرے پائلٹ پر چھریوں کے وار کرکے کاک پٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، تاہم مسافروں اور دیگر عملے نے طیارہ تباہ ہونے سے بچا لیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق 100 سے زائد اسرائیلی مسافروں کو لے کر دبئی سے بن گوریان ایئرپورٹ تل ابیب جانے والے طیارے میں سنسنی خیز ڈرامائی واقعات پیش آئے، پرواز کے دوران پائلٹ کی سیٹ پر موجود ایک شخص نے اچانک دوسرے پائلٹ پر چھری سے حملہ کردیا اور اسے خون میں لت پت کرکے نیچے گرا دیا، اس شدید ہاتھا پائی اور حملے کے دوران طیارہ فضا میں تیزی سے تقریباً 13 ہزار فٹ نیچے کی طرف غوطہ کھانے لگا جس سے مسافروں میں چیخ و پکار مچ گئی۔
اس حوالے سے طیارے پر موجود ایک مسافر نے بتایا کہ کاک پٹ سے شدید چیخوں کی آوازیں آئیں، ایک شخص نے چھری نکال کر پائلٹ کو زمین پر لٹا دیا اور ہر طرف خون ہی خون بکھر گیا، واقعے کے وقت طیارے کے اگلے حصے میں بیٹھے مسافروں نے فوری کاک پٹ میں گھس کر حملہ آور کا مقابلہ کیا، اسے قابو کرکے کاک پٹ سے باہر نکالا اور پچھلی سیٹوں پر موجود دو دیگر پائلٹوں کو کاک پٹ کا کنٹرول سنبھالنے پر مجبور کیا، جس کے بعد طیارے کا نیچے کی طرف غوطہ رک گیا اور اسے سنبھالا گیا۔
بتایا گیا ہے کہ طیارے میں موجود ایک ڈینٹسٹ نے شدید زخمی پائلٹ کو فوری طبی امداد فراہم کرکے اس کی جان بچائی، حملے کے دوران طیارے سے پہلے ایمرجنسی سگنل 7700 اور بعد ازاں ہائی جیکنگ کا عالمی کوڈ 7500 جاری ہوا، جس پر اسرائیلی ایئر فورس کے جنگی طیاروں نے پرواز کی اور اسرائیل نے اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دیں، اسرائیلی سکیورٹی اداروں کے مطابق یہ ایک باقاعدہ دہشت گردی اور طیارہ تباہ کرنے کی منصوبہ بند کوشش تھی، حملہ آور عمانی شہریت کا حامل ہے۔
بعد ازاں طیارے کو ہنگامی بنیادوں پر سعودی عرب کے تبوک شہر میں شہزادہ سلطان بن عبدالعزیز ایئرپورٹ پر اتارا گیا جہاں تمام مسافر محفوظ رہے، تبوک ایئرپورٹ انتظامیہ نے بتایا کہ دونوں زخمی پائلٹوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، فلائی دبئی انتظامیہ نے تمام مسافروں کے محفوظ ہونے کی تصدیق کی ہے .
سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ سے متعلق حکام کا کہنا ہے کہ پرواز 34 ہزار فٹ کی بلندی سے گرنے کے انداز میں 17ہزار فٹ بلندی تک آئی، اس انتہائی غیرمعمولی صورتحال میں دوسرے پائلٹ نے مداخلت کی۔
ذرائع کے مطابق نارمل پائلٹ نے اسے ایمرجنسی سمجھ کر فور ہنگامی کوڈ جاری کیا جب کہ ایک جارحانہ پائلٹ نے طیارے کو انتہائی سیدھے رخ موڑ دیا جس پردوسرے پائلٹ نے طیارہ فوری سنبھالتے کی کوشش کی تو مزاحمت ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہےکہ دونوں پائلٹس کے درمیان ہاتھا پائی کے دوران طیارہ 9 منٹ میں مزید 4 ہزار فٹ نیچے آیا اور ایک پائلٹ کے جارحانہ انداز کو دیکھ کر دوسرے پائلٹ نے ہائی جیکنگ کوڈ جاری کیا جب کہ اس پرتشدد کارروائی کے دوران فضائی عملے نے بھی فوری مداخلت کی۔ذرائع کے مطابق کوڈ آن ہوتے ہی زمین پر موجود ائیر ٹریفک کنٹرولرز الرٹ ہوئے، اردن سے فضائی حدود کے طیارے کا رخ موڑ کر سعودی حدود میں لایا گیا، طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک پر ہنگامی طور پر اتارا گیا جس کے بعد سعودی سکیورٹی فورسز نے فوراً رن وے پر جہاز کو گھیرے میں لے لیا۔ذرائع کے مطابق کریو میں ایک روسی پائلٹ اور ایک یوکرینی معاون پائلٹ شامل تھے، طیارے کا پائلٹ روسی اور معاون پائلٹ یوکرینی ہے، دونوں پائلٹوں کو فلائٹ ڈیوٹی سے ہٹا حراست میں لے لیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پائلٹس کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور جہاز کے بلیک باکس کے ذریعے واقعے کی مکمل تفتیش جاری ہیں۔