کپٹن صفدر کی زندگی کی کہانی ،فاروق اقدس کی زبانی

ٹرپل ون بریگیڈ میں تعینات نوجوان کیپٹن صفدر کو 1990 میں نو منتخب وزیراعظم میاں نواز شریف کا۔ ” اے ڈی سی “غلام مصطفی جتوئی کی پرزور سفارش پر بنایا گیا تھا / غلام مصطفی جتوئی نے کیپٹن صفدر کی ان سے سفارش کیوں کی تھی؟؟؟؟؟
صدر غلام اسحاق خان کی جانب سے محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت معزول کیے جانے کے بعد ان کی الماری سے ملنے والے” وائٹ گولڈ “کے زیورات اور بیش قیمت ہیروں سے جڑی انگوٹھیاں کیپٹن صفدر نے وزیراعظم کے ملٹری سیکرٹری کے حوالے کر دیں جنہیں مروجہ طریقہ کار کے مطابق سابق وزیراعظم بے نظیر کو پہنچا دیا گیا ، محترمہ بینظیر بھٹو کی جانب سے کیپٹن صفدر کے لیے تشکّر کے جذبات کا اظہار
میں نے میاں نواز شریف سے زاتی طور پر بھی ان کے” اے ڈی سی ” کے لیے کیپٹن صفدر کا نام تجویز کیا تھا۔۔۔۔۔ غلام مصطفی جتوئی

اسلام آباد: معروف صحافی فاروق اقدس نے انکشاف کیا ہے کہ اگست 1990 میں جب غلام اسحاق خان نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کی اور سندھ کی معروف سیاسی شخصیت اور سیاستدان غلام مصطفی جتوئی کو نگران وزیراعظم کی ذمہ داریاں سونپی گئیں تو اس وقت پاک فوج کے ایک جوان جو ٹرپل ون بریگیڈ میں تعینات تھے انہیں غلام مصطفی جتوئی صاحب کا’ اے ڈی سی” مقرر کیا گیا وزیراعظم ہاؤس میں منتقلی کے بعد کیپٹن صفدر نے انتظامیہ سے ایک الگ الماری کا تقاضہ کیا جس میں وہ اپنی ذاتی اشیاء رکھ سکیں جس پر انہیں ایک مقفل الماری دی گئی جو سندھ ہاؤس سے لائی گئی تھی جہاں وہ بے نظیر بھٹو کے زیر استعمال تھی چند دنوں بعد جب کیپٹن صفدر نے الماری کھولی تو اس میں ” وائٹ گولڈ “کے زیورات اور بے نظیر بھٹو کی خاندانی تصاویر کی البم ملی کیپٹن صفدر نے بلاتاخیر وزیراعظم کے ملٹری سیکرٹری کو مطلع کرتے ہوئے طریقہ کار کے مطابق قیمتی زیورات اور تصاویر ملٹری سیکرٹری کے حوالے کر دیں جنہوں نے نگران وزیراعظم غلام مصطفی جتوئی کے علم میں یہ بات لاتے ہوئے طریقہ کار کے مطابق ایک تحریری نوٹ کے ساتھ تمام اشیاء سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو پہنچا دیں اور اس میں یہ بھی شامل کیا کہ یہ تمام اشیاء پاک فوج کے ایک نوجوان کیپٹن کو آپ کے زیر استعمال الماری سےملی تھیں چند دنوں بعد ہی الماری کی دوسری دراز میں سے ہیرے کی انگوٹھیاں بھی ملیں جن میں بیش قیمت نگینے بھی جڑے ہوئے تھے انہیں بھی اسی طریقہ کار کے تحت محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھجوا دیا گیا جس پر سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو کی جانب سے کیپٹن صفدر کی تعریف کرتے ہوئے ان کا شکریہ بھی ادا کیا گیا تھا اس واقعہ کے بعد کیپٹن صفدر کی پہلے سے موجود ان کی شرافت اور پروفیشنل ہونے کی ساکھ میں ایمانداری کے حوالہ کا بھی اضافہ ہوا جس کا تذکرہ اور چرچا وزیراعظم ہاؤس میں خوب ہوا اس واقعے کے حوالے سے غلام مصطفی جتوئی جنہیں پاکستان کے پہلے نگران وزیراعظم بننے کا۔ “اعزاز ” ہوا انہوں نےاپنے ایک انٹرویو میں اس سارے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ / نگران وزیراعظم کی حیثیت سے کیپٹن صفدر نے تین ماہ تک وزیراعظم ہاؤس میں ڈیوٹی کی کیپٹن صفدر ایک پروفیشنل سولجر ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی ایماندار با اعتماد،باکردار اور ایک اچھے حسب نسب کی خوبیاں رکھتا تھا میں نے ہمیشہ اس کی تعریف ہی سنی اس کے سینیئر سے بھی اور اپنے ذاتی سٹاف سے بھی اور مجھے اس سے گفتگو کر کے ہمیشہ بہت اچھا لگتا تھا کیونکہ وہ میرا احترام پروٹوکول کے ساتھ ساتھ اپنے بزرگوں کی طرح کرتا تھا اس میں سعادت مندی کا عنصر بھی نمایاں نظر آتا تھا جس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی تھی کہ وہ بہت اچھے حسب نسب کے پس منظر کی خوبیاں رکھتا ہے اس کی یہی چیزیں اور باتیں اسے منفرد اور ممتاز بناتی تھی/ غلام مصطفی جتوئی صاحب کا کہنا تھا کہ میں نے ذاتی طور پربھی میاں نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کامنصب سنبھالنے قبل کیپٹن صفدر کی ان خوبیوں اور صلاحیتوں سے اگاہ کیا تھا اور تجویز کیا تھا کہ وہ کیپٹن صفدر کو ہی اپنا اے ڈی سی رکھیں چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا
( سندھ کے اہم سیاسی راہنما اور پاکستان کے پہلے نگران وزیراعظم غلام مصطفیٰ جتوئی کے” روزنامہ جنگ ” کو دئیے گئے انٹرویو سے ایک اقتباس)
خصوصی نوٹ / محترمہ بینظیر بھٹو کے قیمتی زیورات اور پرانی خاندانی تصاویر کے حوالے سے تزکرہ اس وقت منظر عام پر آیا تھا جب کیپٹن صفدر نے جتوئی صاحب کے اے ڈی سی کی حیثیت سے ذم داریاں سنبھالیں تھیں اور اس موضوع پر کئ کالم بھی لکھے گئے تھے .
سابق وزیراعظم نوازشریف کو کیپٹن صفدر کی فرمانبردای اور شرافت نے اس قدر متاثر کیا کہ انہوں نے بعد میں‌ کیپٹن صفدر کو اپنا داماد بنا لیا.
معروف صحافی و کالم نگار فاروق اقدس کی یاداشتیں