ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر بھی گھریلو تشدد سے نہ بچ سکیں، شوہر حراست میں‌

کئی ماہ سے جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی تشدد کا شکار ملیحہ سحر نے خاوند پر پرچہ کرادیا
شوہر پر موبائل فون چھیننے، کمرے میں بند کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے الزامات

اسلام آباد(رپورٹ:محمدرضوان ملک ) راولپنڈی کی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ہیڈکوارٹرز) ملیحہ سحر سے متعلق معلوم ہو اہے کہ وہ کئی ماہ سے اپنے خاوند کے تشدد کا شکار تھیں‌ انہوں نے بچوں‌کی خاطر کئی ماہ تک شوہر کا تشدد اور توہین آمیز روئیہ برداشت کیا تاہم جب صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تو ملیحہ سحر اپنے شوہر جواد علی کے خلاف شکایت لے کر تھانہ ویمن راولپنڈی پہنچ گئیں‌اور شوہر کے خلاف مقدمہ درج کرادیا.
ایف آئی آر کے مطابق انہوں نے شوہر پر کئی ماہ سے جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی تشدد، موبائل فون چھیننے، کمرے میں بند کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے الزامات عائد کیے۔
پولیس نے جواد علی کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا۔عدالت نے انہیں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا ہے. مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 342 (حبسِ بے جا) اور 506 (مجرمانہ دھمکی) کے تحت درج کیا گیا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ الزامات ایف آئی آر میں خاتون افسر کا مؤقف ہیں جبکہ مقدمے کا حتمی فیصلہ عدالت کرے گی۔ دوسری طرف ان کے شوہر جواد خان کا موقف معلوم نہیں‌ ہو سکا ہے.
ملیحہ سحر کو گزشتہ کئی ماہ سے گھریلو تشدد کا سامنا تھا، تاہم خاندانی وقار اور بچوں کے مستقبل کی خاطر وہ خاموش رہیں۔ دستاویز کے مطابق معاملے کی شدت اس وقت مزید بڑھ گئی جب 02 اکتوبر 2026 اور 03 اکتوبر 2026 کی درمیانی شب ملزم جاوید نے مبینہ طور پر نہ صرف انہیں‌تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ ان کا موبائل فون بھی چھین لیا اور کمرے میں بند کر کے حبسِ بے جا میں رکھا۔
ایف آئی آر میں مزید درج ہے کہ ملزم کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں اور بچوں کو بھی بطور دباؤ استعمال کیا گیا، شوہر نے کسی بھی طریقے سے مدد لینے کی کوشش بھی ناکام بنا دی جس کے بعد پولیس کو فوری طور پر قانونی کارروائی کے لیے درخواست دی گئی۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ضابطے کی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے اور واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
ملیحہ سحر کے مطابق ان کے دو کم عمر بچے ہیں اور انہیں سیکورٹی کی ضرورت ہے۔
جواد علی کے ماضی،پیشہ اور سیاسی وابستگی کے بارے میں‌ بھی زیادہ معلومات نہیں‌مل سکی ہیںِ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ‌کے مطابق پولیس نے جواد علی کو پراپرٹی ڈیلر بتایا ہے.