مرحوم کی عمر 89سال تھی ان کی نماز جنازہ ریس کورس گراونڈ راولپنڈی میں ادا کی گئی
12 جنوری 1993 کو آرمی چیف بنے 1996 تک عہدے پر رہے، پانچویں آرمی چیف تھے ، توسیع نہیں لی
اسلام آباد(نیوزرپورٹر)سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ راولپنڈی میںانتقال کر گئے . ان کی وفات کی تصدیق پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے کی۔ وہ 89 برس کے تھے۔
آرمی چیف کے عہدے سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ راولپنڈی میں مقیم رہے اور زیادہ تر عوامی سرگرمیوں سے دور زندگی گزارتے رہے۔
انہوں نے 12 جنوری 1993 کو آرمی چیف کا عہدہ سنبھالا اور تین سال 12 جنوری 1996تک آرمی چیف رہے.
وہ پاکستان کے پانچویں چیف آف آرمی اسٹاف تھے اور انہوں نے ملازمت میں توسیع لینے کے بجائے ریٹائرمنٹ اختیار کی۔
ان کا دور اس حوالے سے بڑا اہم تھا کہ 1993 کے سیاسی بحران میں جنرل کاکڑ نے اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم نواز شریف کے استعفوں کے بعد سیاسی تعطل ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس واقعے کو بعد میں ’’کاکڑ فارمولا‘‘ کہا گیا۔
پاک فوج کےشعبہ تعلقات عامہ کےمطابق فیلڈمارشل سیدعاصم منیراورپاک فوج کےتمام افسران و جوانوں نےجنرل (ر) عبدالوحیدکاکڑ کے انتقال پرافسوس کا اظہار کیا اور مرحوم کی عسکری خدمات، قیادت اور پاک فوج کے لیے گراں قدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ پاک فوج دکھ کی اس گھڑی میں مرحوم کے اہل خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے اور ان سے دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پاک فوج نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم جنرل عبدالوحید کاکڑ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور سوگوار خاندان کو یہ صدمہ برداشت کرنے کے لیے صبر و ہمت عطا کرے۔
صدر آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نےبھی سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کے انتقال پر افسوس کا اظہارکیا ہےانہوںنے دعا کی کہ اللّہ تعالیٰ مرحوم کو جواررحمت میں جگہ دے اور سوگواران کو صبر جمیل عطا فرمائے۔




