
طاہرمحموداعوان
جسٹس باقر نجفی نے 9اگست 2014 کو سانحہ ماڈل ٹائون سے متعلق اپنی رپورٹ مکمل کر کے پنجاب حکومت کے حوالے کردی تھی جو کہ شائع نہ کی گئیاس پر عوامی تحریک نے کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر لانے کے لئے 5ستمبر 2014 کو لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی
درخواست پر فل بینچ نے سماعت کی اور 17فروری 2015 کو فیصلہ محفوظ کرلیا ،جانے کیوں یہ فیصلہ ایک ماہ تک نہ سنایا گیا یہاں تک کہ مارچ 2015ءمیں بینچ کے رکن جسٹس عبدالستار اصغر ریٹائرڈ ہوگئے اور بینچ تحلیل ہوگیا
مارچ 2015 میں ہی اس کیس پر نیا فل بینچ تشکیل دیاگیا جس نے ایک سال سماعت کے بعد اپریل 2016 میں فیصلہ محفوظ کیا لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر پھر فیصلہ نہیں سنایا گیا یہاں تک بینچ کے سربراہ جسٹس خالد محمود خان مئی 2016 میں ریٹائرڈ ہوگئے ،ساتھ ہی بینچ پھر فیصلہ سنائے بغیر تحلیل ہوگیا
اس کے بعد ستمبر 2016 جسٹس یاور علی کی سربراہی میں نیا فل بینچ بنایا گیا جس نے انتہائی سست رفتار سے کیس کی کارروائی چلائی جو اب تک جاری ہے ۔۔
یوں ستمبر 2014 کو دائر کی جانی والی درخواست پر دو بینچ فیصلہ محفوظ کر کے تحلیل ہوچکے اور تیسرے کی کارروائی جاری ہے، جب ایک بینچ کسی وجہ سے تحلیل ہوجائے تو کیس کی سماعت ازسرنو کی جاتی ہے ۔۔ یعنی پاکستان عوامی تحریک کے وکلاء کو صرف باقر نجفی رپورٹ کے لئے دائر درخواست پر تین مرتبہ دلائل اور ثبوت دینے پڑے ،اس کے باوجود مختلف حربوں کے ذریعے کیس کو لٹکایا جاتا رہا اور رپورٹ بدستور دبی رہی

اس دوران سانحہ کے متاثرین نے رپورٹ حاصل کرنے کے لئے 23 اگست 2017 کو ایک اور درخواست لاہورہائیکورٹ میں دائرکردی جس پر جسٹس مظاہر علی اکبر پر مشتمل سنگل بینچ نے گزشتہ روز رپورٹ پبلک کرنے کا حکم دے دیا
حیران کن طور پر اس فیصلے سے کچھ روز قبل دوسرے لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کے لئے 25ستمبر کا دن مقرر کردیا حالانکہ کافی عرصہ سے کارروائی ملتوی تھی اور طویل تاریخیں دی جارہی تھیں ۔۔۔یہ بات بھی اپنی جگہ قابل غور ہے کہ اگر ایک سنگل بینچ رپورٹ کی بابت کیس پر مہینے سے کم وقت میں فیصلہ دے سکتا ہے تو دو ہزار چودہ سے سترہ تک تین سالوں میں تین لارجر بینچ آج تک فیصلہ کیوں نہیں دے سکے ؟؟
اب پنجاب حکومت کا موقف ہے کہ مذکورہ لارجر بینچ کے ہوتے ہوئے اسی طرح کی درخواست پر سنگل بینچ فیصلہ دینے کا مجاز نہیں ،ہوسکتا ہے کہ قانونی طور پر یہ نکتہ درست ہو لیکن اس بات کی کیا گرانٹی ہے کہ پہلے کی طرح لارجر بینچ کو حیلے بہانے سے تڑوا نہ دیاجائے گا ؟ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ یہ لارجر بھی فیصلہ محفوظ کرلے جسے سنانے کی نوبت نہ آئے ۔۔۔۔
یہ تو صرف ایک کیس کا ذکر ہے جس کا تعلق صرف باقر نجفی رپورٹ سے ہے ،حقیقت میں سانحہ ماڈل ٹائون ایک طویل عدالتی جنگ اور پیچیدہ کیس ہے
اس کیس میں دو ایف آئی آر پر ٹرائل چل رہا ہے ،ایک ایف آئی آر متاثرہ پارٹی یعنی پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے درج کرائی گئی تھی جس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ،وزیراعلیٰ پنجاب ،آئی جی پنجاب کے علاوہ رانا ثنائ اللہ اور کئی وفاقی وزرائ کے نام بھی درج ہیں،اس ایف آئی آر پر کارروائی نہ ہونے کے برابر ہےدوسری ایف آئی آر قتل عام کرنے والی لاہور پولیس نے خود اپنی ہی مدعیت میں درج کرلی اور اس میں طاہرالقادری سمیت عوامی تحریک کے 45کارکنوں کو ہی ملزم نامزد کردیا گیا ،عوامی تحریک نے ابتداٖ میں عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کر رکھا تھا اس لئے اس کیس پر کارروائی کو تیزی سے آگے بڑھایا گیا یہاں تک کہ مارچ 2015میں انسداد دہشتگردی کی عدالت نے طاہرالقادری سمیت عوامی تحریک کے 45کارکنوں کو ہی اشتہاری قرار دے دیا ۔۔

اس موقع پر عوامی تحریک نے عدالتی کارروائی کے عمل کا حصہ بننے کا اعلان کردیا ، اور بعد ازاں 16مارچ 2016کو وزیراعظم سمیت 139افراد کے خلاف استغاثہ دائر کردیا ۔۔اس استغاثہ پر 7فروری 2017کو عدالت نے فیصلہ سنایا اور وزیراعظم سمیت وزراء اور سیاسی شخصیات کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا سمیت 121پولیس افسران اور اہلکاروں کو سانحہ کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے طلب کرلیا ۔۔تاہم ان میں سے کوئی بھی پولیس افسر یا اہلکار نہ تو عدالت پیش ہوا اور نہ ہی انہیں طلبی کے سمن بجھوائے گئے ۔
2اپریل 2017کو عوامی تحریک نے وزیراعظم ،وزیراعلیٰ اور دیگر وزرائ و سیاسی شخصیات کو بے گناہ قرار دینے کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میںچیلنج کردیا جس پر کارروائی ابھی جاری ہے ۔۔۔
دوسری جانب آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا اپنی طلبی کیخلاف ہائیکورٹ چلے گئے ،،جہاںجسٹس یاور علی نے انسداد دہشتگردی کی عدالت کا حکم معطل کردیا ،اس کیس پر سماعت 27ستمبر کو ہونا طے ہے ۔۔۔۔
یہ ہے وہ تہہ در تہہ اور پیچدہ ترین صورتحال جس میں سانحہ ماڈل ٹائون کے کیس کو الجھا کر رکھ دیا گیا ہے ،مقصد صرف یہ ہے کہ کسی بھی طرح نہ تو ذمہ داروںکا تعین ہو سکے اور نہ ہی قتل عام کرنے اور کرانے والے کبھی پکڑ میں آسکیں ۔۔
یہ صرف ایک پارٹی یا ایک جماعت کے لوگوں کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ہمارے اس فرسودہ اور انصاف گریز عدالتی نظام کا شکار ہر وہ مظلوم بنتا ہے جس کا پالا کسی حاکم یا اپنے سے ذیادہ صاحب حثییت شخص سے پڑتا ہے ۔۔اس نظام کے اندر متوسط طبقے کا کوئی مظلوم کیسے انصاف لے سکتا ہے ،،پیسے ،تعلق اور قانونی پیچیدگیوں اور خامیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بااثر طبقات جب تک چاہیں اپنے خلاف سر اٹھانے والے مظلوموں کو ذلیل کرسکتے ہیں اور بالآخر وہ مظلوم ہارجاتے ہیں اور انصاف بک جاتا ہے
اس سارے منظر میں پاکستان عوامی تحریک کی قیادت اور کارکنان قابل تحسین ہیں جنھوں نے نہ صرف یہ کہ اس سانحہ کو تین برس گزر جانے کے باوجود بھی زندہ رکھا بلکہ دوہری عدالتی جنگ بھی لڑ رہے ہیں ۔۔ ایک طرف حصول انصاف کی جہدوجہد اور دوسری طرف انتقامی کارروائی کے طورپر اپنے اوپر بننے والے مقدمات کا دفاع ۔۔کیا یہ عجب غضب نہیں کہ سانحہ کے زخمیوں کو ہی پولیس نے اپنی ایف آئی آر میں ملزم نامزد کر رکھا ہے اوروہ بجائے خود انصاف حاصل کرنے کے مختلف مقدمات میں اپنے دفاع پر مجبور ہوگئے ہیں،تین سال سے سانحہ کے متاثرین کبھی عدالتوں اور کبھی سڑکوں پر احتجاج کی صورت دھکے کھا رہے ہیں ۔مگر انصاف اور عدالتی نظام لمبی تانے سورہا ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔


