
کراچی میں دارالعلوم کورنگی کے اساتذہ پر دہشت گرد حملوں میں کم از کم دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ مفتی تقی عثمانی ان حملوں میں محفوظ رہے۔
دونوں واقعات نیپا چورنگی کے قریب پیش آئے۔ پولیس کے مطابق دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار مسلح افراد نے ایک کار پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا، جناح ہسپتال کے شعبہِ حادثات کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق صنوبر خان کو مردہ حالت میں لایا گیا جبکہ عامر شہاب انتہائی شدید زخمی ہیں اور ونٹی لیٹر پر ہیں۔ انہیں سر اور پیٹ سمیت متعدد گولیاں لگی ہیں۔
دوسرے واقعے میں تھوڑے ہی فاصلے پر ایک کار پر موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک اور شخص ہلاک ہوگیا۔ جبکہ دوسری گاڑی میں موجود مفتی تقتی عثمانی محفوظ رہے۔
ایس پی گلشن طاہر نورانی کے مطابق’مفتی تقی دارلعلوم سے گلشن اقبال جارہے تھے کہ ان پر حملہ کیا گیا۔ گلشن اقبال میں واقع بیت المکرم مسجد میں وہ کئی سالوں سے جمعے کا خطبہ دیتے ہیں۔‘
جے یو آئی کے رہنما قاری عثمان نےتصدیق کی کہ کار میں مفتی تقی عثمانی بھی سوار تھے جو محفوظ رہے جبکہ ان کا گارڈ ہلاک ہوگیا۔ قاری عثمان کے مطابق مفتی تقی نماز کے بعد فیملی کے ہمراہ جا رہے تھے۔
یاد رہے کہ مفتی تقی دارالعلوم کورنگی کے سربراہ ہیں اور ان کا شمار دیوبند مکتب فکر کے بڑے علماء میں ہوتا ہے۔
قاری عثمان کا کہنا تھا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے حکم پر علماء سے سیکیورٹی واپس لے لی گئی تھی اور ’وفاق المدارس نے کئی بار شکایت کی لیکن سنا نہیں گیا۔‘
دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پولیس سے حملوں کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔
مفتی تقی کے بھتیجے سرور عثمانی نے اپنے فیس بک پر لکھا ہے ’میرے محبوب چچا جان مفتی جسٹس محمد تقی عثمانی پر آج کراچی میں قاتلانہ حملہ کیا گیا لیکن اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ وہ فائرنگ میں محفوظ رہے. البتہ ان کا محافظ فائرنگ سے شہید ہوگیا اور ان کا ڈرائیور زخمی ہوگیا لیکن وہ زخمی حالت میں گاڑی کو اس جگہ سے نکالنے میں کامیاب ہوگیا۔‘
مفتی تقی عثمانی کا خاندان سیاست سے دور رہا ہے جبکہ مذہبی طور پر ان کی پاکستان، افغانستان اور انڈیا میں پذیرائی کی جاتی ہے۔ ملا عمر سے مذاکرات کے لیے جب حکومت پاکستان نے علماء کا وفد اسلام آباد بھیجا تو اس میں تقی عثمانی کے بھائی رفیع عثمانی شامل تھے جبکہ لال مسجد آپریشن سے قبل جب حکومت نے لال مسجد انتظامیہ سے مذاکرات کے لیے وفد بھیجا تو ان میں تقی عثمانی بھی شامل تھے۔قاری عثمان کا کہنا تھا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے حکم پر علماء سے سیکیورٹی واپس لے لی گئی تھی اور ’وفاق المدارس نے کئی بار شکایت کی لیکن سنا نہیں گیا۔‘
مفتی تقی کے بھتیجے سرور عثمانی نے اپنے فیس بک پر لکھا ہے ’میرے محبوب چچا جان مفتی جسٹس محمد تقی عثمانی پر آج کراچی میں قاتلانہ حملہ کیا گیا لیکن اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ وہ فائرنگ میں محفوظ رہے. البتہ ان کا محافظ فائرنگ سے شہید ہوگیا اور ان کا ڈرائیور زخمی ہوگیا لیکن وہ زخمی حالت میں گاڑی کو اس جگہ سے نکالنے میں کامیاب ہوگیا۔‘
سرور عثمانی کے مطابق ’گاڑی میں چچا جان، چچی جان اور ان کے پوتے پوتیاں موجود تھے جو اللہ کا شکر ہے سب محفوظ رہے۔ البتہ شیشے کے ٹکڑوں سے چچی جان کو معمولی زخم آیا۔ پوتے کو بھی شیشے کے کچھ ٹکڑے لگے لیکن سب لوگ بڑے حادثے سے محفوظ رہے۔‘
مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ علامہ ناصر عباس جعفری نے مولانا مفتی تقی عثمانی پر حملے کی مذمت کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مذہبی شخصیات پر فائرنگ اور دہشتگردانہ حملے شہر کا امن تباہ کرنے کی سازش ہے۔ دہشتگرد قاتلوں کو فوری گرفتار کیا جائے۔
پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے بھی کراچی میں فائرنگ کے واقعات میں ہلاکتوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ صوبے میں امن و امان کے خلاف سازش کو آہنی ہاتھوں سے روکے اور واقعے میں ملوث ملزمان کو قانون کی گرفت میں لایا جائے۔




