حکومت خیبر پختون خوا اور وزارت اطلاعات فواد چودھری کے نشانے پر ، جہالت کا علاج لقمان حکیم کے پاس بھی نہیں تھا۔ فواد چودھری 

اسلام آباد(نیوزرپورٹر) وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی اپنی ہی حکومت پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے انہوں نے جہاں 29 رمضان کو عید منانے پر خیبر پختون خوا حکومت پر تنقید کی وہیں اپنی سابقہ وزارت کے حوالے سے کہا کہ ہماری وزارتِ اطلاعات میں عالمی میڈیا کو جواب دینے کی صلاحیت کم ہے۔انہوں نے ٹویٹر پر خیبرپختونخوا حکومت کے منگل کو عید منانے کے فیصلے پر شدید تنقید کی۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخواہ حکومت کا منگل کو عید منانے کا فیصلہ نامناسب ہے اور اس سے جگ ہنسائی ہوئی ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ پیر کی شام چاند کا نظر آنا ممکن ہی نہیں تھا، مذہبی تہوار کی بنیاد بھی جھوٹ پر رکھ دی گئی دنیا میں ایسے تاثرگیا کہ جیسے جھوٹ کوسرکاری سرپرستی حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومتیں مسلک اور مقامی لڑائیوں میں نہیں پڑتیں، جو جہاں چاہے عید کرے مگر جھوٹ کی بنیاد پر نہیں۔فواد چوہدری نے کہا کہ جہالت کا علاج حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا، پرنٹنگ پریس اور ریلوے کا سفر برسوں تک حرام قرار دیا گیا جب کہ لاڈ اسپیکر کو حلال کرتے کرتے کئی سال لگ گئے، چاند کا مسئلہ بھی حل ہو ہی جائے گا۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے، جو ملک ہمارے ساتھ آزاد ہوئے وہ آج کہاں کھڑے ہیں، معاشرے نئی سوچ کی قیادت میں آگے بڑھتے ہیں، امید ہے قوم کا باشعور طبقہ ہر معاملے پر خاموش نہیں رہے گا۔فواد چوہدری نے کہا کہ پسماندہ سوچ کو مستر د کرنا چاہیے، پاکستان میں بھی آخری فتح علم اور عقل کی ہونی ہے۔خیبرپختونخوا میں سرکاری سطح پر عید الفطر منانے کے اعلان کے بعد ایک ٹویٹر صارف جمیل سومرو نے فواد چودھری سے مطالبہ کیا تھا کہ اب ان کو مستعفیٰ ہو جانا چاہیے۔ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے اپنی ہی حکومت کی وزارت اطلاعات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جس کے وہ خود ماضی میں وزیر بھی رہ چکے ہیں۔وفاقی وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری وزارتِ اطلاعات میں عالمی میڈیا کو جواب دینے کی صلاحیت کم ہے۔انھوں نے کہا کہ عالمی میڈیا کو سمجھانے کی صلاحیت پیدا کرنے کی کوششوں کا سنگین فقدان رہا، انھوں نے اس کی ذمہ داری ماضی کی حکومتوں پر ڈالتے ہوئے کہا کہ کئی سالوں کی بیڈ گورننس اب ہر ادارے میں نمایاں ہے۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اہم معاملات پر پاکستان کے بیانیے کو نظر انداز کرنے پر ہم عالمی میڈیا کو الزام نہیں دے سکتے۔