
اسلام آباد: چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ ملک میں پاکستان کوالٹی کنٹرول اور سٹینڈرڈ ائیزیشن اتھارٹی کوالٹی کنڑول کے معیار کو برقرار رکھنے میں ناکام رہی ہے اور بین الاقوامی ضروریات کے مطابق جدت پسندانہ اقدامات نہیں اٹھا سکی۔ پاکستان سٹینڈرڈائیزیشن اینڈ کوالٹی کنڑول اتھارٹی ایکٹ1996 کا مقصد بھی یہی تھا کہ ایک خود مختار ریگولیٹر کا قیام عمل میں لایا جائے لیکن بد قسمتی سے مطلوبہ اہداف حاصل نہیں ہو سکے۔ ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں کوالٹی کنڑول اور سٹینڈرڈ ائیزیشن پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے کے سلسلے میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس کیو سی اے کو کابینہ ڈویژن کے ماتحت میں ہونا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ اس ادارے کے بین الاقوامی ممالک کے ساتھ رابطے قائم کیے جائیں تاکہ دوسرے ممالک کے ساتھ ایک موازنہ کیا جا سکے۔چیئرمین سینیٹ نے جاپان کے ساتھ پی ایس کیو سی اے کے ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینے کی بھی منظوری دی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ کوالٹی کنڑول اور سٹینڈرڈائیزیشن میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ماہرین کے مطابق پاکستان کی گرتی ہوئی برآمدات کی ایک بڑی وجہ سٹینڈرڈائیزیشن اور کوالٹی کنڑول کے مروجہ اصولوں میں خامیاں ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے مارچ2018 میں چیئرمین سینیٹ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اس مسئلے کا سو موٹو نوٹس لیا تھا۔سینیٹ سیکرٹریٹ نے چیئرمین سینیٹ کی سربراہی میں اس اہم مسئلے پر شب وروز کام کیا تاکہ ایک مثالی قانون متعارف کرایا جا سکے جو نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی معیار پر پورا اتر سکے۔چیئرمین سینیٹ نے بدھ کے روز اس قانو ن پر ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی غور کیا جس میں بین الاقوامی ماڈلز، پاکستان کے موجودہ قوانین اور پی ایس کیو سی اے کا بغور جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ متعلقہ شراکت داروں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔سینیٹ سیکرٹریٹ کے حکام نے چیئرمین سینیٹ کو آگاہ کیا کہ بین الاقوامی ماڈلز کامطالعہ کیا گیا ہے اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ ادارے سینیٹ آف پاکستان کے ساتھ کوالٹی کنڑول اور سٹینڈرڈائیزیشن کے شعبوں میں اصلاحاتی عمل کو تیز کرنے کیلئے تعاون کی خواہش رکھتے ہیں۔ایک بہت بڑی پیش رفت یہ بھی ہے کہ سینیٹ سیکرٹریٹ نے قومی سطح پر مختلف شراکت داروں جن میں وزارت سائنس و ٹیکنالوجی،ایوان ہائے تجارت،تاجر تنظیمیں،صوبائی سطح پر متعلقہ کمیٹیوں اور صوبائی حکومتوں کے علاوہ دیگر دوسرے اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔خطے کی سطح پر سٹینڈرڈائیزیشن میں ہم آہنگی لانے سے خطے کے اندر اور باہر تجارت کو فروغ ملے گااور پاکستان میں براہ راست سرمایہ کاری کیلئے راہیں ہموار ہونگی۔
پاکستان کوالٹی کنٹرول اور سٹینڈرڈ ائیزیشن اتھارٹی کوالٹی کنڑول کے معیار کو برقرار رکھنے میں ناکام رہی ہے,صادق سنجرانی




