جوطاقتیں انہیں لے کر آئیں ہیں انہیں سوچناچاہیے،ایسا نہ ہو کہ کل عوام اور پورا ملک ان کے خلاف کھڑا ہوجائے
سابق صدر آصف زرداری نے پروڈکشن آرڈر ملنے کے بعد قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کی۔ انھوں نے کہا کہ ہر صنعت رو رہی ہے اور ہمیں بچاؤ ہمیں بچاؤ چلارہی ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھا کر ٹیکس بھی لگادیے گئے، ٹیکس دینے والوں سے مزید ٹیکس لگانے کی تیاری کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ جوطاقتیں انہیں لے کر آئیں ہیں انہیں سوچناچاہیے،ایسا نہ ہو کہ کل عوام اور پورا ملک ان کے خلاف کھڑا ہوجائے، ایسا نہ ہو کہ سیاسی جماعت کے ہاتھوں سے گیند نکل جائے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے خطاب سے کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ بجٹ کو کئی اخبارات اور میڈیا پر دیکھا،اس میں کوئی صداقت نہیں کہ اس کو وزارت خزانہ نے بنایا ہو۔ کچھ ایسے ترجیحی موضوعات ہیں جن میں اپوزیشن اور حکومت کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں،اس پر پیپلزپارٹی کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔
آصف زرداری نے کہا کہ ساتھ بیٹھ کر معاشی پالیسی پر بات کرلیتے ہیں۔ اکنامک پالیسی کو اوونرشپ دینی چاہئے،جمہوریت چلتی رہتی ہے لیکن حکمران آتے جاتے ہیں۔ سابق صدر نے کہا کہ پاکستان ہے تو سب کچھ ہے،پاکستان نہیں ہے تو کچھ نہیں ہے۔ انھوں نے حوالے دیا کہ بے نظیربھٹو کی شہادت کے بعد جب یہ نعرہ لگ رہا تھا کہ پاکستان نہیں چاہئے تو کھڑے ہوکر کہا کہ پاکستان ہونا چاہئے۔
انھوں نے سوال اٹھایا کہ اگر بجٹ صحیح ہے تو لوگ کیوں پریشان ہیں، صنعت کار کیوں رو رہے ہیں،کوئی تو ماجرا ہے۔ موجودہ صورتحال میں اتنا خوف ہے کہ لوگ کاروبار کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں
سابق صدر آصف علی زرداری نے کہاہے کہ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں اور اگر پاکستان نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ ہم ملکی معیشت سنبھالنے کے لیے حکومت کے ساتھ بیٹنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے کہا جارہاہے کہ جن کے بنک اکاؤنٹس میں 5لاکھ روپے ہیں انکو نوٹسز جاری کیے جائینگے۔ یہ کس کس سے حساب لینگے؟ حساب کتاب بند کرکے آگے کی بات کی جائے ۔سابق صدر نے کہا کہ موجودہ حکومت کو لانے والوں اور حکومت کو سوچنا چاہیے کہ انکے اقدامات سے ملک چل نہیں پائے گا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں کوئی صداقت نہیں کہ یہ آپ کے فنانس ڈیپارٹمنٹ نے بنایا ہو۔ بجٹ میں کاٹن پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ کاٹن انڈسٹری توجہ طلب ہے۔
آصف زرداری نے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے پر اسپیکر کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ان اراکین قومی اسمبلی کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس حوالے سے آواز بلند کی ۔



