پشاور:رکشہ ڈرائیور یونین نئے رکشوں کی رجسٹریشن پر تشویش کا اظہارکر تے ہو ئے کہا ہے کہ شہر میں نئے رکشوں کو رجسٹریشن دینا خلاف قانون ہے جبکہ شہر میںرجسٹرڈ 40 ہزار سے زائد رکشہ ڈرائیور فاقہ کشی پر مجبور ہیںرجسٹرڈ رکشوں کیساتھ زیادتی کی جارہی ہے اگر نئے رکشے رجسٹرہوئے تو پورا شہر جام ہوجائیگا، جبکہ اس سلسلے میں2016میں عدالت نے فیصلہ بھی د یا کہ 2026 تک کوئی نئی رجسٹریشن نہیں کی جائیگی یو نین کے صدر باز محمد خان ، جنر ل سیکر ٹر ی عز ت خان ، امان اللہ اور بدر ی زمان کا کہنا ہے کہ پنجاب سے رسید لیکر یہاں محکمہ ایکسائز سے رجسٹریشنز لی جارہی ہیں جس سے رکشوں کی مزید بھرمار ہوجائیگی اور آمدو رفت شدید متاثر ہوگی جبکہ محکمہ ایکسائز چنگ چی کی رجسٹریشن رکشے والوں کو دے رہے ہیں جو خلاف قانون ہے۔انہوں نے کہاکہ ر کشہ کاغذات پر دس سال کےلئے مکمل طور پا بند ی لگا ئی جائے نئے ر کشے رجسٹر ہونے سے پورا شہر مکمل جا م ہو جا ئےگا اور کاروبار زندگی بھی مزید شدید متاثر ہوجائیگا ۔انہوں نے کہاکہ پنجاب سے نئے ر کشوں لا نے پر مکمل پابند ی لگا ئی جا ئے جس شہر سے غیر رجسٹرڈ ر کشوں کی بھر مار ختم ہو جا ئیگی انہوں نے اس سلسلے میں ایس ایس پی ٹر یفک سے بھی کئی بار ملاقاتیں کیں اور ر کشہ ڈرائیور مسائل سے آگا ہ کیاگیا انہوں نے کہا کہ
اگر ہمارے مطالبات پر توجہ نہیں دی گئی تو سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے۔


