شدید عوامی ردعمل ائیرپورٹس پر سامان کی پلاسٹک ریپنگ کا فیصلہ ایک دن بعد واپس لے لیا گیا

ائیرپورٹس پر سامان کی پلاسٹک ریپنگ کا فیصلہ واپس لے لیا گیا

ائیر مارشل (ر) شاہد لطیف کی ٹی وی پر حکومتی تعریفیں کام نہ دکھا سکیںشدید عوامی ردعمل .ائیرپورٹس پر سامان کی پلاسٹک ریپنگ کا فیصلہ ایک دن بعد واپس لے لیا گیا

سول ایوی ایشن نے ایک نوٹی فکیشن جاری کیا تھا جس میں ملک کے تمام ائیرپورٹس پر مسافروں کے سامان کی پلاسٹک ریپنگ لازمی قرار دی تھی۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کے فیصلے کو سوشل میڈیا صارفین اور عوام کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

عوام کا کہنا تھا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے مسافروں کو سامان کی پلاسٹک ریپنگ پر مجبور کرنا غیر قانونی ہے اور دنیا میں شاید کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا۔عوامی تنقید کے بعد سول ایوی ایشن اتھارٹی سامان کی پلاسٹک ریپنگ کا فیصلہ واپس لینے پر مجبور ہوگئی۔پلاسٹک ریپنگ کے احکامات کی منسوخی کے لیے سول ایوی ایشن اتھارٹی نے خط بھی جاری کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ فیصلہ عوامی ردعمل اور ائیرپورٹس پر مسافروں کی مزاحمت کے پیش نظر کیا گیا۔سی اے اے کے نوٹیفکیشن کے مطابق تمام ائیر پورٹس پر پلاسٹک ریپنگ کا ٹھیکا ایک نجی کمپنی ائیرکائرو کو دیا گیا تھا جس نے فی بیگ 50 روپے وصول کرنے تھے۔تاہم سوشل میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے لوگوں کاکہنا تھا کہ یہ فیصلہ مسافروں پر چھوڑ دینا چاہیے کہ وہ اپنے سامان کی پلاسٹک ریپنگ کرانا چاہتے ہیں یا نہیں؟ ایک صارف کا کہنا تھا کہ حیرانی کی بات ہے کہ ایک طرف حکومت نے اسلام آباد میں پلاسٹک کی تھیلیوں کے استعمال پر پابندی لگائی ہے اور اب ائیرپورٹس پر پلاسٹک ریپنگ کو فروغ دیا جارہا ہے۔

یاد رہے کہ لازمی پلاسٹک ریپنگ کا ٹھیکہ ائیر مارشل (ر) شاہد لطیف کی کمپنی ایئرکیرو کو دیا گیا
تھا۔