اسلام آباد پولیس نے شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے متنازع بینرز ہٹا دیئے اور مبینہ ملزم کو گرفتار کرلیا، بینرز پر بھارتی رکن اسمبلی کا پاکستان مخالف بیان تحریر تھا۔
خیال رہے کہ اسلام آباد میں لگے متنازع بینرز کے خلاف اس وقت کارروائی عمل میں لائی گئی جب ان سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر ہوئیں۔
وفاقی دارالحکومت کے مختلف علاقوں سے ہٹائے جانے والے بینرز پر گزشتہ دنوں بھارت کی ایوان بالا، راجیہ سبھا (کونسل آف اسٹیٹ) کے اجلاس کی ایک تصویر موجود تھی جس کے نیچے بھارتی رکن اسمبلی سنجے روت کا اسمبلی میں دیا گیا پاکستان مخالف بیان انگریزی میں تحریر تھا اور بینرز پر آویزاں تصویر میں بھی وہ نظر آرہے تھے۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی بینرز کی ویڈیوز اور تصاویر سے یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اس کے ذریعے کیا پیغام دینے کی کوشش کی گئی تھی، بینرز پر ایک ‘لوگو’ بھی موجود تھا جس میں ‘اکھنڈ بھارت ریل ٹیرر (اٹوٹ بھارت اصل دہشت گردی ہے) یا ‘Akhand Bharat Real Terror کے الفاظ واضح طور پر موجود تھے۔

واضح رہے کہ اٹوٹ بھارت یا غیر منقسم بھارت کے الفاظ انڈیا میں انتہا پسند ہندو تنظیموں، جیسے راشٹریا سوامسیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور دیگر، کی جانب سے استعمال کیے جاتے ہیں، یہ اصطلاح ایک ایسی ریاست کے قیام کے لیے استعمال کی جاتی ہے، جس میں افغانستان، پاکستان، بھارت، نیپال، میانمار، تبت، بھوٹان اور بنگلہ دیش ایک ہی حکومت کے زیر انتظام ہوں۔
خیال رہے کہ گزشتہ رات مذکورہ بینرز کی ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد اسلام آباد پولیس نے بلو ایریا سے ایک شخص کو گرفتار کیا تھا، جن کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ وہ بینرز آویزاں کرنے کا ذمہ دار ہے۔
پولیس کا کہنا تھا کہ گرفتار کیے جانے والے ملزم، جس نے بینرز بنائے تھے، کے مطابق انہیں گوجرانوالہ کے ایک رہائشی شخص کی جانب سے بینرز کی اشاعت کے لیے کہا گیا تھا۔
پولیس نے ملزم کو گرفتار کرنے کے بعد بینرز بنانے والے پرنٹنگ پریس کو مہر بند کردیا۔
بعد ازاں انٹیلی جنس اداروں نے ملزم کو پولیس سے اپنی تحویل میں لیا اور انہیں مزید تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
دریں اثنا تاجروں کے نمائندے ساجد اقبال گجر کی جانب سے کوہسار تھانے میں ایک درخواست دی گئی جس میں متنازع بینرز لگانے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ اسلام آباد ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ حمزہ شفقت نے شہر کی میونسپل انتظامیہ سے واقعے کے حوالے سے وضاحت طلب کی اور بینرز کو ہٹانے میں 5 گھنٹے کی تاخیر پر بھی استفسار کیا۔



