
واشنگٹن:امریکا میں اسقاط حمل کی مخالفت کرنے والے امریکی نمائندے 70 سالہ اسٹیو آرنلڈ کنگ نے کہا ہے کہ اگر ریپ اور محرم سے تعلقات کی بنا پر ہونے والے حمل کو ضائع کرنے کی اجازت دی جائے تو دنیا میں انسانی آبادی باقی نہیں رہے گی۔امریکی ریاست آئیووا سے ایوان نمائندگان یعنی ایوان زیریں کے رکن اسٹیو آرنلڈ نے اسقاط حمل کی اجازت نہ دینے کو ایک مرتبہ پھر جائز قرار دیتے ہوئے ریپ اور محرم سے تعلقات کو انسانی نسل بڑھانے میں مددگار قرار دیا۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اسٹیو آرنلڈ کی جانب سے دیے گئے متنازع بیان کے بعد انہیں اپنی ہی ریپبلکن پارٹی سمیت ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق اسٹیو کنگ نے ریاست آئیووا میں میڈیا کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر دنیا کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ انکشاف ہوگا کہ ریپ اور محرم سے تعلقات آبادی بڑھنے کی ایک بڑی وجہ ہیں۔امریکی رکن پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ اگر دنیا کی آبادی سے ریپ اور محرم سے تعلقات کے ذریعے پیدا ہونے والوں کو نکال دیا جائے تو دنیا میں باقی کچھ نہیں بچے گا۔اسٹیو کنگ کا کہنا تھا کہ ریپ اور محرم سے تعلقات جہاں حمل کا سبب ہیں، وہیں یہ دنیا کی آبادی کو بڑھانے میں بھی مددگار ہیں۔امریکی کانگریس کے مطابق ریپ کے بعد حمل ٹھہر جانے میں پیدا ہونے والے بچے کا کوئی قصور نہیں، نہ ہی اس گناہ کا قصور بچے کو جنم دینے والی خاتون یا اسے ریپ کا نشانہ بنانے والے مرد پر عائد کیا جا سکتا ہے۔اسٹیو کنگ نے کہا کہ وہ اس بات کی گارنٹی نہیں دے سکتے کہ ان کی نسل ریپ اور محرم سے تعلقات رکھنے کی وجہ سے بڑھی یا نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اب اگر ہم کسی خاندان کے شجر اور حسب نسب کا جائزہ لیں گے تو ہم پر یہ انکشاف ہوگا کہ کسی نہ کسی طرح ریپ یا محرم سے تعلقات کی وجہ سے ہی خاندان آگے بڑھا۔اسٹیو کنگ کی جانب سے اسقاط حمل کی مخالفت میں دیے جانے والے اس طرح کے متنازع دلائل پر جہاں ان کی پارٹی کے سیاسی رہنما ان سے ناراض ہیں، وہیں انہیں ڈیموکریٹک سمیت دیگر پارٹیوں کے سیاسی رہنما بھی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔



