سینٹ کمیٹی نے سی پیک کے لئے خصو صی اقدامات کی مد میں مختص 27ارب کے فنڈز سے 24 ارب روپے ارکان قومی اسمبلی کو مختلف سکیموں کے لئے جاری کرنے کے حوالے سے تفصیلات طلب کر لیں

 

اسلام آ باد:سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات نے حکومت سے سی پیک کے لئے خصو صی اقدامات کی مد میں مختص 27ارب کے فنڈز سے 24 ارب روپے ارکان قومی اسمبلی کو مختلف سکیموں کے لئے جاری کرنے کے حوالے سے تفصیلات طلب کر لیں، چئیرمین کمیٹی سینیٹر آ غا شاہ زیب درانی نے نا ئی گاج ڈیم منصوبے پر وفاق اور سند ھ حکومت کے درمیان جاری تنازعہ کی وجہ سے منصو بے کی لاگت میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ منصو بے کی لاگت میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے جبکہ سندھ اور وفاق مسائل میں الجھے ہوئے ہیں،ڈیم کی لاگت 16ارب سے بڑھ کر 47 ارب ہو چکی ہے،معاملہ حل کیا جائے۔ منگل کو سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات کا اجلاس چئیرمین کمیٹی سینیٹر آ غا شاہ زیب درانی کی صدارت میں ہوا۔سیکرٹری پلاننگ کمیشن نے کمیٹی کو آ گاہ کیاکہ وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار کابینہ جلاس کے باعث حاضر نہ ہو سکے۔ اجلاس میں سینیٹر میاں رضا ربانی کی جانب سے سی پیک کے لئے مختص 27ارب میں سے 24 ارب روپے ممبران قومی اسمبلی کو دئیے جانے کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس واپس لے لیا گیا جبکہ کمیٹی نے ممبران قومی اسمبلی کو دیے گئے چوبیس ارب روپے کی سکیموں کی تفصیلات طلب کر لیں۔ اجلاس میں نائیگاج ڈیم منصوبے کے حوالے سے تاز ترین صورتحال پر غور کیا گیا۔سیکرٹری پلاننگ کمیشن نے کمیٹی کو آ گاہ کیاکہ نائی گاج ڈیم منصوبے کے پی سی ٹو منظوری کے بعد سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان اختلافات ہیں۔پی سی ٹو کی منظوری کے بعد سندھ حکومت اضافی پیسے وفاق سے مانگ رہی ہے، وفاقی حکومت پچاس فیصد اضافی رقم فراہم کر سکتی ہے، نائیگاج ڈیم کے لیے سندھ حکومت نے جو پیسے دینے تھے وہ نہیں دیے جا رہے۔ سندھ حکومت کے خصو صی سیکرٹری برائے آ بپاشی نے کمیٹی کو آ گاہ کیاکہ پی سی ون کے مطابق سندھ حکومت زمین حاصل کرنے،ا سیٹلمنٹ اور سیکیورٹی کی مد میں پیسے دے گی،اضافی رقم سندھ حکومت کی بجائے وفاقی کو ادا کرنا ہو گی، سندھ حکومت کی جانب سے ایک ارب نوے کروڑ سیٹلمنٹ، سیکیورٹی کی مد میں ادا کرنے ہیں۔ چئیرمین کمیٹی سینیٹر آ غا شاہ زیب درانی نے کہاکہ منصو بے کی لاگت میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے جبکہ سندھ اور وفاق مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ڈیم کی لاگت 16ارب سے بڑھ کر 47 ارب ہو چکی ہے۔ معاملہ حل کیا جائے۔سیکرٹری پلاننگ کمیشن نے کمیٹی کو آ گاہ کیا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھی چل رہا ہے۔