سی پیک منصوبوں میں سست روی،حکام کے ایک دوسرے پر الزامات

سی پیک منصوبوں میں سست روی‘چینی اورپاکستانی حکام مایوس

اسلام آباد :وفاقی وزیر منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار کی زیر صدارت چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)کے منصوبوں کا 58واں جائزہ اجلاس جمعہ کو اسلام آباد میں منعقد ہوا‘ اس موقع پر سی پیک منصوبوں میں سست روی پر پاکستانی اور چینی حکام مایوسی کا شکار نظر آئے ‘اجلاس میں شریک سرکاری ذرائع  کے مطابق اجلاس کے دوران سیکریٹری مواصلات نے اس بات پر غم وغصے کا اظہار کیا کہ ملتان سکھر موٹروے مقررہ وقت کے اندرکیوں مکمل نہیں کی جاسکتی ‘انہوں نے اس بات پر بھی حیرانی کا اظہار کیاکہ چینی کمپنی کے ایک اہلکار نے پاکستان حکام کو اعتماد میں لئے بغیر اس منصوبے میں تاخیر سے متعلق بیان کیوں دیا‘اجلاس کے دوران سکھرملتان موٹروے منصوبے میں تاخیر پر کچھ سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔اس موقع پر چینی حکام نے مؤقف اختیارکیا کہ ان کی مشینری سڑک پر پڑی ہے ‘اگر یہ چوری ہوگئی تو اس کا ذمہ دار کون ہوگاجس پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے )کے حکام نے جواب دیا کہ فول پروف سکیورٹی فراہمکی گئی ہے لہذایہ جواز قابل قبول نہیں ۔ اجلاس کوبتایاگیاکہ ایم ایل ون پروجیکٹ کا فیصلہ عمران خان نے اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے چینی اورپاکستانی حکام پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کردی ہے ‘کمیٹی کا فیصلہ آنے تک اس منصوبے پر بحث مؤخر کردی گئی  ۔رشکئی میں خصوصی اقتصادی زون کے حوالے سے چینی سفیر نے کہاکہ وہ اس ضمن میں پاکستانی حکام کی جانب سے منظوری کا انتظارکررہے ہیں ۔اجلاس کو بتایا گیا کہ گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے معمولی تبدیلیوں کے ساتھ گوادر ماسٹر سٹی پلان کی منظوری دے دی ہے ، گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سربراہ وزیراعلیٰ بلوچستان ہیں ، سیکرٹری مواصلاحات نے بتایا کہ ملتان سکھر موٹر وے کی تعمیر تقریباً مکمل ہو گئی ہے اور عام ٹریفک کے لیے جلد کھول دی جائے گی ، سیکرٹری پاور نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ سی پیک منصوبوں کے لیے توانائی کی طلب اور رسد کا جائزہ اکتوبر 2019 میں مکمل کر لیا جائے گا ۔ نیپرا کے نمائندے نے آگاہ کیا کہ پورٹ قاسم اور گوادر 300 میگا واٹ کول پلانٹ کے ٹیرف سے متعلق مسائل جلد حل کر لیے جائیں گے ۔ وفاقی وزیر نے کوہالہ پن بجلی کے منصوبےکے لیے چین کی حکومت اور تھری گارجز کے تعاون کو سراہا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ توانائی منصوبے کے ٹیرف مسائل کے حل کے لیے ٹریبونل قائم کیا جائے گا ۔ اس موقع پر چینی سفیر یائوجنگ نے کہا کہ سی پیک منصوبہ درست سمت کی جانب گامزن ہے جس سے پاکستان میں خوشحالی اور ترقی آئے گی ، اجلاس کے دوران سی پیک فریم ورک کے تحت مختلف منصوبوں پر تفصیلی غورو خوص کیا گیا۔وفاقی وزیر اور چینی سفیر نے ایسٹ بے ایکسپریس وے منصوبے پر کام کی رفتار کو سراہا۔ اجلا س میں اورنج لائن ٹرین پروجیکٹ اور گوادر میں جاری منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ، وفاقی وزیر نے کہا کہ سپیشل اکنامک زونز پاکستان کی برآمدات بڑھانے میں مددگار ثابت ہونگے۔