چینی کمپنی گوادر میں دس لاکھ درخت لگائے گی۔

اسلام آباد:چائنہ اوورسیز پورٹ ہولڈنگ اتھارٹی بلین ٹری منصوبہ کے تحت گوادر میں 10 لاکھ درخت لگائے گی، اس سلسلہ میں مختلف انواع کے تجربات کئے جا چکے ہیں جبکہ ٹشو کلچر لیبارٹری زیر تعمیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار چائنہ اوورسیز پورٹ ہولڈنگ اتھارٹی کے چیئرمین و سی ای او چانگ باؤچونگ نے وزیراعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم خان سے ایک ملاقات میں کیا۔ چائنہ پورٹ ہولڈنگ اتھارٹی کے وفد نے گذشتہ روز وزارت موسمیاتی تبدیلی کا دورہ کیا اور اس سلسلہ میں اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت پاکستان کی خواہش ہے کہ گوادر کو مکمل طور پر کلین اینڈ گرین شہر کے طور پر آباد کیا جائے تاکہ یہ شہر نہ صرف پاکستان کے دیگر شہروں کیلئے مثال بنے بلکہ دنیا بھر کے تمام شہروں میں عروس البلاد کے طور پر جانا جائے، اس سلسلہ میں وفاقی حکومت اور وزارت موسمیاتی تبدیلی متعلقہ اداروں سے بھرپور تعاون کرے گی۔ چائنہ پورٹ ہولڈنگ اتھارٹی کے چیئرمین نے بتایا کہ اس سلسلے میں چین کی نامور سائنسی و تحقیقاتی کمپنیوں بشمول یورلِن ایکو لوجک، چائنہ اکیڈمی اور دیگر اداروں کی تحقیقات سے استفادہ کیا گیا ہے۔ گوادر شہر کی آب و ہوا، مٹی کے نمونوں، پانی کی دستیابی اور پہلے سے موجود نباتاتی تنوع کو مد نظر رکھتے ہوئے پودوں کی اقسام کا انتخاب کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں ایک ملین پودے تیار کرنے کیلئے نرسری کا قیام بھی عمل میں لایا جا چکا ہے جو کہ ماہانہ تین لاکھ پودے تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ چائنہ اوور سیز پورٹ ہولڈنگ اتھارٹی نے مذکورہ نرسری میں سوہانجنا، جنگلی توت، اور کیسٹر آئل و دیگر انواع کے 19000 پودے پہلے ہی تیار کر رکھے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ملین پودوں کے خواب کو حقیقت میں ڈھالنے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے جو گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی، محکمہ جنگلات بلوچستان، میونسپل کمیٹی گوادر اور چائنہ اوورسیز پورٹ ہولڈنگ اتھارٹی کے نمائندوں پر مشتمل ہے۔ چیئرمین نے بتایا کہ گوادر میں نامساعد موسمی حالات کے پیش نظر ایک پودہ لگانے کی لاگت 20 ہزار سے بھی زیادہ ہے جبکہ پودوں کے بقا کی کامیابی کا تناسب 50 فیصد سے بھی کم ہے جو کہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ وفاقی وزیر نے چیئرمین کو یقین دلایا کہ وفاقی حکومت اس منصوبہ کو کامیاب بنانے کیلئے نہ صرف حکومت بلوچستان سے خصوصی تعاون کرے گی بلکہ اس سلسلے میں وسائل کی دستیابی کیلئے بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں سے بات بھی کرے گی۔