
تھانہ نون کے علاقہ میں قائم بھٹہ سے پندرہ مزدور، عورتوں اور بچوں سمیت جسٹس محسن اختر کیانی کی عدالت میں پیش کر دیے گئے.
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں مزدوروں سے جبری مشقت کا واقعہ لمحہ فکریہ پے، بازیاب ہونے والے خاندان نے عدالت میں بیان دیا کہ بھٹہ مالک صابر وڑائچ گزشتہ تین برس سے قید میں رکھ کر جبری مشقت کروا رہا ہے. تین برس قبل دو لاکھ قرض لیا اب بھٹہ مالک بیس لاکھ واپس مانگ رہا ہے، بھٹہ مالک کا وکیل عدالت میں پیش ہوا. دلائل دیتے ہوئے وکیل نے کہا کہ علاج کے لیے مزدوروں کو قرض دیا، 14 لاکھ بقایا ہیں، قرض چکا دیں تو جانے کی اجازت ہے جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب جبری مشقت کی بدترین صورت ہے لین دین کا معاملہ ہے تو عدالتیں ہیں، جبری مشقت ظلم ہے. عدالت نے حکم دیا کہ تمام اضلاع کے پولیس افسران کو جبری مشقت کے حوالے سے ہدایات جاری کی گئ ہیں، تھانہ نون کے ایڈیشنل ایس ایچ او عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ میں دل کا مریض، چھٹی پر تھا، علم نہیں جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ٹھیک ہے پھر آئ جی کو بلا لیتے ہیں، عدالت کاجبری مشقت کا شکار خاندان کو فوری طور پر آزاد کرنے کا حکم دے دیا. دوران دلائل بھٹہ مالک احاطہ عدالت سے فرار ہو گیا عدالت نے بھٹہ مالک کے خلاف ایف آئ آر درج کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ پولیس محنت کش خاندان کو بحفاظت ان کے گاؤں میں پہنچائے اوراگر خاندان کے کسی فرد کو نقصان پہنچا تو پولیس کے خلاف ایف آئ آر ہوگی.


