گریاں کھائیں موٹاپے سے نجات پائیں موٹاپے سے بچانے والا مزیدار نسخہ سامنے آگیا

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

اگر عمر بڑھنے کے ساتھ موٹاپے اور توند کو خود سے دور رکھنا چاہتے ہیں تو روزانہ ایک مزیدار چیز کو کھانا فوری عادت بنالیں۔

درحقیقت روزانہ کچھ مقدار میں گریاں جیسے بادام، اخروٹ، پستہ یا دیگر کو کھانا عمر بڑھنے کے ساتھ جسمانی وزن میں اضافے کے امکان کو کم کرسکتا ہے۔

اس سے پہلے بھی متعدد بار یہ بات سامنے آچکی ہے کہ گریوں کا استعمال امراض قلب کا خطرہ کم کرنے، مردوں کے جنسی افعال میں بہتری ، ذیابیطس اور کینسر جیسے امراض سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔

اور اب طبی جریدے بی ایم جے نیوٹریشن، پریونٹیشن اینڈ ہیلتھ میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ گریوں کا روزانہ استعمال محض 14 گرام بڑھا کر جسمانی وزن میں اضافے اور موٹاپے کے خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے۔

گریاں ان سچورٹیڈ فیٹس، وٹامنز، منرلز اور فائبر سے بھرپور ہوتی ہیں مگر ان میں کیلوریز زیادہ ہوتی ہیں جس باعث عرصے تک خیال کیا جاتا تھا کہ یہ وزن کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے فائدہ مند نہیں، مگر اب مسلسل ایسے شواہد سامنے آرہے ہیں کہ غذائی معیار بھی مقدار جتنا اہم ہوتا ہے۔

یہ نئی تحقیق امریکا کے ہارورڈ ٹی ایچ چن اسکول آف پبلک ہیلتھ کے ماہرین نے کی، جس کے دوران محققین نے لوگوں کے 3 گروپس کے جسمانی وزن، غذا اور ورزش کی عادات کے ڈیٹا کا جائزہ 1986 سے 2010 کے دوران لیا۔

اس مقصد کے لیے ایک گروپ 51 ہزار سے زائد طبی ماہرین کا تھا جن کی عمریں 40 سے 75 سال کے درمیان تھیں، جو ایک فالو اپ تحقیق کا حصہ تھے، دوسرے گروپ میں 35 سے 55 سال ایک لاکھ 20 یزار سے زائد نرسوں کو شامل کیا گیا جو نرسز ہیلتھ اسٹڈی کا حصہ تھیں جبکہ تیسرا گروپ ایک لاکھ 16 یزار سے زائد نرسوں پر مشتمل تھا جن کی عمریں 24 سے 44 سال کے درمیان تھیں۔

20 سال کے عرصے کے دوران ان رضاکاروں سے ہر 4 سال بعد ان کا جسمانی وزن معلوم کیا گیا جبکہ یہ بھی دریافت کیا گیا کہ وہ گریوں کا استعمال کس حد تک کرتے ہیں، ورزش جیسے چہل قدمی، جاگنگ، سائیکلنگ، سوئمنگ یا دیگر کا ہفتہ وار اوسط بھی جانچا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ 1986 سے 2010 کے درمیان ان تینوں گروپس کے جسمانی وزن میں سالانہ اوسطاً 0.32 اضافہ ہوا جبکہ اس عرصے کے دوران گریوں کے استعمال کی مجموعی مقدار بھی بڑھ گئی۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق وہ لوگ روزانہ 14 گرام گریاں (کوئی بھی یعنی بادام، اخروٹ یا دیگر) کا استعمال کرنے والے افراد میں جسمانی وزن کے اضافے بلکہ موٹاپے کا امکان کم ہوتا ہے۔

اسی طرح یہ بھی دریافت کیا گیا کہ اتنی مقدار میں اخروٹ کا روزانہ استعمال موٹاپے کا خطرہ 15 فیصد تک کم کردیتا ہے۔

خاص طور پر پراسیس گوشت، ریفائن اجناس یا میٹھے کی جگہ گریوں کو دینا 4 سال کے عرصے میں جسمانی وزن میں 0.41 سے 0.70 کلوگرام تک وزن میں کمی لاسکتا ہے۔

مزید براں اگر گریوں کا استعمال نہیں کرتے، مگر اب 14 گرام مقدار کو کھانا عادت بنالیتے ہیں تو جسمانی وزن میں اضافے اور موٹاپے کے مجموعی خطرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔

خاص طور پر کسی ایک گری کا استعمال بڑھا دینا 4 سال کے دوران جسمانی وزن میں 5 کلو یا اس سے زائد اضافے کا امکان کم کرتا ہے جس سے بھی موٹاپے کا شکار ہونے سے بچنا آسان ہوجاتا ہے۔

محققین نے اس کی وجہ کا تعین تو نہیں کیا مگر چند وجوہات کا ذکر ضرور کیا ہے۔

ایک ممکنہ وضاحت تو یہ ہے کہ گریوں کو چبانان ہی کافی محنت طلب کام ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں لوگوں کے اندر کچھ اور کھانے کی خواہش کم ہوتی ہے، جبکہ یہ گریاں فائبر سے بھرپور ہوتی ہیں جو پیٹ بھرنے کا احساس بڑھانے والا جز ہے اور نظام ہاضمہ کو سست روی سے کام پر مجبور کرتا ہے جس سے بے وقت بھوک نہیں لگتی۔

اسی طرح گریوں میں موجود فائبر معدے میں چکنائی کو جذب ہونے میں مدد دیتا ہے جس سے زیادہ کیلوریز کو جلانا آسان ہوجاتا ہے اور ان گریوں میں موجود ان سچورٹیڈ فیٹس چکنائی کے تسکیدی عمل کو زیادہ بہتر بناتے ہیں، یعنی کیلوریز کو توانائی کے لیے استعمال کرنے کا عمل زیادہ تیز ہوجاتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ کسی بھی قسم کی گری کا استعمال بڑھانا طویل المعیاد بنیادوں پر جسمانی وزن میں اضافے کا امکان کم کرتاہے۔

انہوں نے بتایا کہ گریوں کو صحت بخش غذائی معمول کا حصہ بنانا بتدریج بڑھنے والے جسمانی وزن کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دے سکتا ہے اور موٹاپے کی روک تھام ممکن ہوجاتی ہے۔