
بھارتی فورسز نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کی گئی تقریر کے بعد مقبوضہ جموں کشمیر میں شہریوں کی نقل و حرکت پر عائد پابندیوں میں مزید سختی کردی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے جب اقوام متحدہ میں اپنی تقریر مکمل کی تو مقبوضہ جموں وکشمیر میں سیکڑوں افراد اپنے گھروں سے باہر آئے اور آزادی اور عمران خان کے حق میں نعرے لگائے۔

عینی شاہدین اور مقامی انتظامیہ کے عہدیداروں کے مطابق بھارتی فورسز نے عمران خان کی تقریر کے ایک روز بعد سری نگر کے متعدد علاقوں میں گاڑیوں پر اسپیکر لگا کر اعلان کیا کہ شہریوں کی نقل وحرکت محدود کردی گئی ہے۔
احتجاج کو روکنے کے لیے اضافی فوج کو بھی طلب کرلیا گیا ہے۔
قابض فورسز نے سری نگر کے کاروباری مرکز جانے والے راستوں کو کھاردار تاروں سے بند کردیا۔
ایک پولیس اہلکار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ‘گزشتہ شب عمران خان کی تقریر کے فوری بعد سری نگر شہر بھر میں احتجاج کے بعد یہ ضروری ہوگیا تھا’۔
دوسری جانب بھارتی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ خطے میں دو مختلف واقعات میں 6 کشمیری شہید ہوگئے ہیں اور ایک بھارتی فوجی بھی مارا گیا ہے۔
خیال رہے کہ سری نگر سے 19 کلومیٹر شمال کی جانب واقع گنربل میں تین نوجوانوں کو شہید کیا گیا تھا۔
بھارتی دفاعی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل دیوندر آنند کا کہنا تھا کہ دیگر تین کشمیریوں کو سری نگر اور جموں کو ملانے والی شاہراہ کے قریب بٹوٹ میں نشانہ بنایا گیا۔


