مہوش حیات کو کشمیر پر بات کرنے سے کس نے منع کیا؟

Related image

معروف پاکسانی ماڈل و ادکارہ جنہیں حال ہی میں حکومت کی جانب سے تغمہ امتیاز بھی دیا گیا ہے انہوں نے ایک تقریب میں کشمیر میں یتیم بچوں کے حوالےسے یہ کہ کر انکار کردیا کہ انہیں کمشیر پر بات کرنے سے منع کردیاگیا ہے۔

ماضی میں اداکارہ ہمیشہ ہی سیاسی امور، حقوق نسواں اور مسئلہ کشمیر پر کھل کر بات کرتی آئی ہیں۔

البتہ انٹرنیٹ پر وائرل ان کی ویڈیو میں وہ ایک ایونٹ کے دوران مسئلہ کشمیر پر بات کرنے سے انکار کرتی نظر آئیں۔

مہوش حیات ایک ایونٹ میں موجود ہیں جبکہ ایک رپورٹر نے ان سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سوال کیا کہ جیسے انہوں نے یتیموں کی کفالت کا ذمہ اٹھایا ہے، کیا وہ کشمیر کے بچوں کی کفالت کا بھی ذمہ اٹھائیں گی؟ اس پر مہوش حیات نے جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کشمیر پر بات کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

مہوش حیات اس موقع پر پینی اپیل نامی تنظیم کی ایک فلاحی تقریب میں موجود تھیں، وہ اس تنظیم کی سفیر بھی ہیں۔

اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد اداکارہ کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

البتہ اب اداکارہ نے اس حوالے سے اپنا وضاحتی بیان بھی جاری کردیا۔

ٹوئٹر پر اداکارہ نے لکھا کہ ‘یہ ویڈیو سیاق و سباق سے ہٹ کر لی جارہی ہے، میں عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر پر کھل کر بات کرتی آرہی ہوں اور کرتی رہوں گی، میرے آگے کے بہت بڑے منصوبے بھی ہیں’۔

مہوش نے اپنی ٹوئٹ میں مزید لکھا کہ ‘یہ ایک فلاحی تقریب تھی اور مجھ سے درخواست کی گئی تھی کہ میں سیاسی گفتگو سے پرہیز کروں، تاکہ ان یتیم بچوں سے توجہ نہ ہٹے جن کی مدد کرنے میں اس ایونٹ میں پہنچی تھی’۔

Image result for mehwish Hayat and mahira khan pic

اس سے قبل ماہرہ خان پر بھی الزام لگایا گیا تھا کہ وہ مسئلہ کشمیر پر کھل کر بات نہیں کرتی۔ جس کے بعد اداکارہ نے سوشل میڈیا پر مسئلہ کشمیر پر کھل کر بات کرنے کے ثبوت پیش کیے تھے۔

خیال رہے کہ بھارت کی جانب سے رواں سال 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد دنیا بھر سے بھارتی اقدام کی مذمت کی گئی۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر جہاں پاکستانی حکومت و سیاستدان نے بھارت پر تنقید کرتے ہوئے کشمیری عوام کا ساتھ دیا وہیں شوبز شخصیات نے بھی کشمیری عوام کی خود مختاری اور انہیں آزادی دینے کی بات کی تھی۔