
فیصل آباد میں پسند کی شادی کرنے والی لڑکی کو والدین نے گھر بلا کر غیرت کے نام پر قتل کردیا۔ کہنے کو تو ہمارا معاشرہ ایک اسلامی معاشرہ ہے لیکن ہم لوگ روایات میں جکڑے ہوے ہیں۔
پسند کی شادی اسلام میں بھی جائز ہے لیکن اس کے لیے اگر والدین کی رضا مندی حاصل کرلی جائے تو بہت بہتر ہوتا ہے۔اسلام بہت خوب صورت دین ہے اور ہمارے آقا نبی پاکﷺ
نے ہر مسئلے کا بخوبی حل بتایا ہے۔آپﷺ نے جب اپنی بیٹی کی شادی کرنا چاہی تو انہیں لڑکے کا بتا کر ان سے اجازت مانگی کہ وہاں میں آپ کی شادی کرنا چاہ رہا ہوں،یہاں سے یہ بات واضح ہو چکی کہ لڑکی کی شادی کرنے سے پہلے والدین اس کی رضامندی پوچھ لیا کریں۔جبکہ حضرت خدیجہ ؓ نے بھی اپنی شادی کا پیغام حضور نبی پاکﷺ کو خود بھیجا تھا۔یہاں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر لڑکی کو کوئی لڑکا پسند آ جائے تو یہ کوئی غلط بات نہیں ہے تاہم شادی کرنے کے لیے شارٹ کٹ کی بجائے مناسب اور معاشرے کے مطابق جائز راہ اختیار کرنی چاہیے۔
مگر ہمارے ہاں اسلامی سے زیادہ معاشرتی رواج رائج ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔اسی چکر میں بہنوں کو قتل کر دیا جاتا ہے۔
ایساہی ایک افسوناک واقعہ فیصل آباد میں پیش آیا ہے جہاں پسند کی شادی کرنے پر والدین نے اپنی ہی بیٹی کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔فیصل آباد میں پسند کی شادی کرنے والی لڑکی کو اس کے گھر والوں نے بہانے سے گھر بلاکر قتل کردیا اور لاش بغیر کفن کے مقامی قبرستان میں گڑھا کھود کر دفنادی۔یہ افسوسناک واقعہ فیصل آباد میں تاندلیُانوالہ کے علاقے میں پیش آیا جہاں غیرت کے نام پر نوجوان لڑکی کا بہیمانہ قتل کردیا گیا۔لڑکی نے پسند کی شادی کی تھی جس بات پر اس کے والدین ناخوش تھے۔ افسوسناک واقعہ کے بارے میں درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق پولیس کو ایک مخبر کے ذریعے اطلاع ملی کہ نواحی گاؤں ٹھٹہ بیگ آبادی کھڈیاں میں ایک لڑکی پسند کی شادی کیلئے ایک نوجوان کے گھر چلی گئی تھی جسے اس کے ورثاء بہلاکر واپس لے آئے تھے اور اسے غیرت کے نام پر گلا دبا کر قتل کر دیا۔بعد ازاں لاش کو مقامی قبرستان میں ایک گڑھا کھود کر بغیر کفن کے دفنایا گیا۔ پولیس نے اطلاع ملنے پر لڑکی کے والد سے پوچھ گچھ کی تو اس نے واقعے کی تصدیق کر دی جس پر لڑکی کے والد اور دیگر رشتے داروں کے ہمراہ پانچ افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔جبکہ لڑکی کے پوسٹ مارٹم کے لیے مجسٹریٹ سے اجازت لے کر گڑھا کھود کرلڑکی کی لاش بھی نکال لی گئی ہے۔




