
پیرس:فرانس کے سابق وزیراعظم اور وزیردفاع کو پاکستان کوآبدوزوں کی فروخت میں رشوت لینے پر مقدمات کا سامنا ہے۔
فرانس کے سابق وزیراعظم اور وزیر دفاع کرپشن کیسز کا سامنا کررہے ہیں جن میں انہوں نے پاکستان کو آبدوزیں بیچنے پر پیسے کمائے تھے۔ ایڈورڈ بیلاڈور سال 1993 سے 1995 تک فرانس کے وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہے تھے۔تاہم اب ایڈورڈ بیلاڈور اور سابق وزیر دفاع فرانکوئز لیوٹارڈ کو 90 کی دہائی میں آبدوزوں کی فروخت کے معاہدے میں مبینہ طور پر رشوت لینے کے نام سے معروف اسکینڈل ’کراچی افیئر‘ پر مقدمے کا سامنا ہے۔اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والے اس بات کا جائزہ لیں گے کہ آیا مبینہ طور پر لی گئی یہ رشوت ایڈورڈ بیلاڈور کی 1995 کی انتخابی مہم پر خرچ کرنے کے لیے استعمال کی گئی جس میں انہیں جیکوئس شیراک سے شکست ہوئی تھی
اس سے قبل 2017 میں دونوں سابق فرانسیسی عہدیداروں پر 1993 سے 1995 کے دوران پاکستان کو آبدوزوں اور سعودی عرب کو جنگی جہاز کی فروخت میں ’کارپوریٹ اثاثوں کے غلط استعمال کی سازش‘ کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔
فرانسیسی اٹارنی جرنل فرانکوئس مولینس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ان رشوتوں کا تخمینہ تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ فرانک لگایا گیا جو آج کے دور میں تقریباً 2 کروڑ یورو کے برابر رقم ہے۔یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب کراچی میں سال 2002 میں فرانسیسی انجینئرز کو لے جانے والی بس پر ہونے والے خود کش دھماکے کی تحقیقات کی جارہی تھیں۔مذکورہ بم دھماکے میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں اس آبدوز معاہدے پر کام کرنے والے 11 انجینئرز بھی شامل تھے۔اس بم حملے کا شبہ ابتدائی طور پر القاعدہ پر ظاہر کیا گیا تھا لیکن اس وقت تمام تر توجہ اسلحہ معاہدے کی جانب مبذول کردی گئی تھی جب تفتیش کاروں نے اس بات پر غور کیا کہ کہیں یہ دھماکا وعدے کے مطابق رشوت کی ادائیگی نہ ہونے پر انتقامی طور پر تو نہیں کیا گیا، جب سابق صدر جیکوئس شیراک نے ایڈورڈ بیلا ڈور کو انتخابات میں شکست دینے کے بعد کمیشنز کی ادائیگی منسوخ کردی تھی۔



