
بغداد :عراق میں 5 روز سے جاری خونی جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد 100 ہوگئی۔ 4 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ مظاہرین نے آٹھ ٹی وی چینلز کے دفاتر پر دھاوا بولتے ہوئے توڑ پھوڑ کی اور عملے پر تشدد کیا۔
عراق میں سڑکیں خون میں نہلا دی گئیں۔ کرپشن، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کیخلاف پرتشدد مظاہروں میں کمی نہ آسکی۔
ہفتے کے روز دارالحکومت بغداد سمیت مختلف شہروں میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے مزید 14 مظاہرین ہلاک ہوئے۔ فورسز کی جانب سے احتجاج کرنے والوں پر براہ راست گولیوں کے علاوہ واٹر کینن، آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق مسلح افراد نے عرب ٹی وی سمیت 8 نیوز چینل کے دفاتر پر حملہ کرتے ہوئے نشریات بند کرادیں۔ مشتعل افراد نے دفاتر میں ، توڑ پھوڑ کی اور عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا۔۔
دوسری جانب اقوام متحدہ نے عراق کی بگڑتی صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عراق کیلئے اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی جینِین ہینس پلاسکارٹ نے ٹویٹ کرتے ہوئے ہلاکتو ں پر افسوس کا اظہار کیا۔
انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں جبکہ تشدد میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
یاد رہے کہ امریکہ کی سرکردگی میں اتحادی فورسز کی جانب سے عراق میں تباہی و بربادی کے بعد تاحال عراق بدامنی اور بیروز گاری کا شکار ہے اور تباہی پھیلانے والے ہتھیار نہ ملنے پر حملہ آور بھی معافی مانگ پر ایک سائیڈ پر ہوگئے ہیں۔ تیل کی دولت سے مالا مال ملک میں عوام غربت ، مہنگائی اور بیروزگاری کے باعث ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے ہیں۔


